کوئٹہ: بین الصوبائی بارکونسل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان سوموٹوکیسزمیں وقت ضائع کرنے کی بجائے ماتحت عدالتوں پر توجہ دیں ۔ ملک میں 18ویں ترمیم کو رول بیک ،جمہوری اداروں کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سی پیک منصوبے میں عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔آئین انسانی حقوق کوتحفظ فراہم کرتی ہے لاپتہ افراد کوبازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔
گزشتہ روز بین الصوبائی بارکونسل کے اجلاس کے بعد کوئٹہ پریس کلب میں چیئرمین ایگزیکٹیوکمیٹی بلوچستان بارکونسل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ،صلاح الدین گنڈہ پور،عبدالرزاق مہر،حاجی عطاء اللہ لانگو،بشریٰ قمر،چوہدری شوکت عزیز،نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری ادارے برائے نام ہیں اداروں میں بے جا مداخلت سے عوام کو سیاسی ومعاشی بحرانوں کاسامنا ہے ۔
سوموٹوکیسزپرتوجہ ہونے سے فوجداری وسول مقدمات سمیت دیگرہزاروں کیسزعدالتوں میں زیر التواء ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ملک میں ڈیمزتعمیر کرنے اور سوموٹوکیسزمیں وقت ضائع کرنے کی بجائے ماتحت عدالتوں میں جاری کرپشن اورزیرالتواء کیسزپرتوجہ دے کرآئینی اداروں کومضبوط کریں جوڈیشری میں جاری کرپشن سے عوام کاعدالتوں پرسے اعتماداٹھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے معدنی وسائل پر ان کاحق حاکمیت تسلیم کیا جائے،سی پیک میں بلوچستان کے لوگوں کے تحفظات دورکرکے قانون سازی کے ذریعے ان کے حقوق کا تحفظ کیاجائے۔
وکلاء رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سندھ ، کے پی کے اور پنجاب سے لاپتہ ہونے والے افراد نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی مالی معاونت سے متعلق فیصلہ دیا ہے بلوچستان اور کے پی نے لاپتہ افراد سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں خفیہ ہاتھوں کے کہنے پرمخصوص ججوں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججزکیخلاف دائر ریفرنسزسے متعلق آگاہی فراہم کرکے متعلقہ صوبے کے بارکونسل کونمائندگی دی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارکونسل کی صوبائی بارکونسلوں کے معاملات میں بے جا مداخلت پاکستان بار کونسل کے رولز کی خلاف ورزی ہے،سیکریٹری سپریم کورٹ کے الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی لاکر صوبوں کو نمائندگی دی جائے ،مفت قانونی معاونت کیلئے مختص فنڈزغیر سرکاری اداروں کی بجائے بارکونسلوں کو دیئے جائیں،بار کونسل ایڈ کے تحت صوبائی ووفاقی حکومت بجٹ میں رقم مختص کریں۔ضلعی عدالتوں کے ججزکاتبادلہ کرکے دوسرے صوبوں میں بھیجاجائے ۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھرکے وکلاء قانون کی حکمرانی آزادعدلیہ،آئینی حقوق کی بحالی، بلاامتیازاحتساب کیلئے جدوجہد جاری رکھتے ہوئے 18ویں آئینی ترمیم کیخلاف ہونے والی سازشوں کوناکام بنائیں گے اس موقع پر سیدزاہدجمال باچا،محمد داؤدوینس،ملک خالقداد،فیاض جھندران،جاویدسلیم شورش سمیت دیگر وکلاء رہنماء بھی موجود تھے۔
18ویں ترمیم کو رول بیک اور جمہوری اداروں کو تباہ کرنیکی کوششیں ہورہی ہیں ، وکلاء رہنما
![]()
وقتِ اشاعت : January 5 – 2019