|

وقتِ اشاعت :   January 24 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع آواران کی رہائشی اسماء بلوچ نے مبینہ طورپرلاپتہ ہونے والے اپنے والدجمیل احمد کی بازیابی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملکی قوانین کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے۔

گزشتہ روزکوئٹہ پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپ میں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ اوروائس فاربلوچ مسنگ پرسنزکے وائس چیئرمین ماماقدیربلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیاکہ 2013ء میں انکے والد کو آواران کے گاؤں تیرتیج سے مبینہ طورپرلاپتہ کیاگیا ۔

انہوں نے کہا کہ آج انہیں لاپتہ ہوئے 6سال کاعرصہ مکمل ہوچکا ہے ،میرے والدایک مزدورتھے جودن بھرکھیتی باڑی کرکے ہماری کفالت کررئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ والد کے مبینہ اغواء سے ہم نے علاقے کے میرومعتبرین سمیت منتخب نمائندے کواطلاع دی تاہم کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہماراخاندان انتہائی کرب سے دوچارہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے والد کو بازیاب کراکے ملکی آئین وقانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیاجائے اگرانہیں نقصان پہنچایاگیا توہمیں بتایاجائے ۔ اسماء بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل سمیت حکومتی ادارے انکے والد کی بازیابی میں اپناکرداراداکریں۔

اس موقع پر وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماماقدیربلوچ نے کہا کہ گزشتہ چنددنوں میں25افراد بازیاب ہوکر اپنے گھروں کوپہنچے ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے چیمبرمیں ہمیں جویقین دہانیاں کرائی تھیں اس پر عملدرآمدنہیں ہواجس پرہم نے 2ماہ کیلئے اپنے احتجاج کوموخرکرنے کافیصلہ واپس لیاہے