کوئٹہ: بولان میڈیکل ہسپتال کی انتظامیہ نے ہسپتال کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی ۔ سال 2018 میں 5 لاکھ 15 ہزار 953 مریضوں نے اسپتال کی اوپی ڈی کا رخ کیا، 23 ہزار 418 مریضوں کو داخل کیا گیا ، 11 ہزار 622 مختلف آپریشن کئے گئے۔
اپنے دفتر میں پریس بریفنگ کے دوران بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فہیم خان نے کہا کہ ہسپتال نے سال 2018 میں اوپی ڈی ، ایکسر ے فیس سمیت دیگر مدات میں 2 کروڑ 79 لاکھ 19 ہزار80 روپے حکومتی خزانے میں جمع کروائے ہیں اور گذشتہ سال30کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں جبکہ زکواۃ فنڈ سے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لیے37 لاکھ90 ہزار560 روپے جبکہ بیرونی مریضوں کے لئے 2 لاکھ 39 ہزار154 روپے کی ادویات خرید کر دی گئیں ادویات کی شفاف فراہمی کے لیے نگران ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کر رہی ہے۔
5 لاکھ 15 ہزار953 مریضوں نے او پی ڈی میں معائنہ کروایا اور دوائیں لیں جبکہ23ہزار 418 مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرکے علاج کیا گیا اس کے علاوہ 11 ہزار 622 مختلف آپریشن کیئے جن میں ہڈی وجوڑ،بچوں کی سرجری، دماغ کی سرجری گردہ مثانہ ،کان ناک گلے کے آپریشن کئے گئے۔
اسی طرح گائینی آپریشن تھیٹر اور جنرل آپریشن تھیٹر میں 3967 مختلف آپریشنز کئے،گزشتہ سال 2176 ایم آر آئی اور2219سٹی اسکین کے علاوہ 24237 مختلف نوعیت کے ایکسریز کئے گئے شعبہ قلب میں مختلف دل کے امراض کے ٹیسٹ 4426 کئے گئے لیبر روم میں 19561 حاملہ خواتین نے قبل از زچگی علاج طبی معائنہ کرایا جن میں 17570 نارمل ڈلیوریاں کی گئیں جبکہ 29005مریضوں کے الٹراساؤنڈ کئے گئے بی ایم سی لیباٹری میں 1لاکھ21 ہزار53 ٹیسٹ کئے گئے ۔
ہسپتال میں کینسر کے 1335 ،نیورو کے 213 ،خصوصی اسٹروک نیورو وارڈ میں 74 مریضوں کو داخل جبکہ ٹی بی کے 487 ایچ آئی وی کے 200 یرقان سینٹر میں 1244 ہیپاٹائٹس بی کے 823 ہیپاٹائٹس سی کے 221 مریضوں کو رجسٹرڈ کر کے ان کا علاج کیا گیا۔
شہید شبیر مگسی شعبہ حادثات میں بم دھماکے ،حادثات، گیس دھماکہ اور گولی لگنے کے واقعات میں آنے والے 51360 مریضوں کا علاج کیا گیا اْنہوں نے کہا کہ 18 نرسز نے بی ایس این ڈگری حاصل کر کے اپنی ڈیوٹی سر انجام دینا شروع کر دی ہے جبکہ 23نرسز کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک کے مختلف نرسنگ کالجز میں بھیجا گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر حکومت جو بھی ایکشن لینے کو کہے گی اْس پر عملدآرمد ہوگا کیونکہ یہ مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہو گا ۔
ہڑتال او پی ڈیز میں ہے ایمرجنسی اورہسپتال کے دیگر شعبے کام کررہے ہیں ہڑتال کے باعث نان ایمرجنسی آپریشن متاثر ہورہے ہیں مریضوں کو بہترین خدمت فراہم کرنے کے حوالے سے ہیڈ نرسز اور اسٹاف نرسز کو بیسٹ نرسز کا ایوارڈ بھی دیا گیا ۔
اْنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی ،صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ خان مری، سیکرٹری صحت کے ہیلتھ وژن کے تحت دستیاب وسائل میں عوامی خدمت کر رہے ہیں بی ایم سی ہسپتال بلوچستان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں اندرون بلوچستان ، سندھ اور افغانستان سے بڑی تعداد میں مریض علاج کرانے آتے ہیں ۔
حکومت اور محکمہ صحت بلوچستان کے لوگوں سمیت ہسپتال میں علاج معالجے کی غرض سے آنے والے مریضوں کو تمام دستیاب وسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سہولیات اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال میں ایچ ایم آئی ایس سسٹم کو فعال کرکے ماہانہ رپورٹنگ کی جا رہی ہے سارے اسپتال کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ، آئندہ او پی ڈی آنے والے مریض خود کار سسٹم کے تحت ٹوکن حاصل کر سکیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ فزیکل ویریفکیشن کے تحت غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اب تک 100گزشتہ سال 100 کے قریب غیر حاضر اسٹاف کے خلاف کارروائی کی گئی ، اسپتال کے اسٹاف کی حاضریاں 95 فیصد ہیں۔2018 میں اسپتال کے ریونیو کلیکشن سسٹم کو بھی کمپیوٹر رائزڈ کیا گیا ۔
سال 2018 بولان میڈیکل ہسپتال میں 5لاکھ 15ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا , ڈاکٹر فہیم خان
![]()
وقتِ اشاعت : January 29 – 2019