|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2019

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی نے کہا کہ آج کا اجلاس سنجیدہ معاملات کو زیر بحث لانے کے لئے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے دنیش کمار کو تمام محکموں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔

انہوں نے حج و اوقاف سے لے کر ایس اینڈ جی اے ڈی تک تمام محکموں سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیئے جوابات کابینہ اراکین کو دینے چاہئے تھے انہوں نے کہا کہ چھ ماہ اپوزیشن نے صبرو تحمل سے کام لیا ہے اور اس دوران ہم اراکین نے بھی کوئی سوال نہیں اٹھایاکابینہ کو اپوزیشن اراکین کے سوالوں کے جواب دینے چاہئیں اب وہ وقت نہیں کہ جوکوئی کسی کو معاف کرے گا۔

انہوں نے ایوان میں ایک کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ایک کشتی میں بہت سے افراد سوار تھے جب کشتی بھنور میں پھنسی تو سب نے ایک شخص کو اتارنے پر مجبور کیا کہ تم اترو لگتا ہے کہ حکومتی اراکین نے دنیش کمارکو کشتی سے اترنے پر مجبور کیا ہے۔بعدازاں وقفہ سوالات نمٹادیا گیا ۔

اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مبین خلجی نے ایوان میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑپر اپنے حلقہ انتخاب میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری افسر میر ے حلقہ میں تعینات ملازمین کو انکی تنخواہیں بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے میں نے گزشتہ روز صوبائی وزیر سے حلقہ میں مداخلت بند کرنے کی گزارش کی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیا میں سیاست نہیں کروں۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص وہاں لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے اس صوبائی وزیر وہاں سے کونسلر کا الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی جماعت ہے ہم نے حالیہ سینیٹ انتخابات میں بھی بی اے پی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ وزیر موصوف کا رویہ درست نہیں وزیراعلیٰ بلوچستان میرے حلقہ انتخاط میں بلاوجہ مداخلت کا نوٹس لیں ۔ اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے مبین خلجی سے کہا کہ وہ اس متعلق وزیراعلیٰ سے بات کریں اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پھر اسے اسمبلی فلور پر اٹھائیں