پاکستان اور ایران کے درمیان طویل مدت سے برادرانہ اور اچھی ہمسائیگی کے تعلقات ہیں بلکہ ایران دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے پاکستان کو ایک نئی ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے۔ پاکستان اور ایران کئی دہائیوں تک فوجی معاملات میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے۔ بھارت کے خلاف دو جنگوں میں ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا بلکہ 1965کی جنگ سے قبل پاکستان نے رن آف کچھ کے تنازعہ میں ایران کو اپنا ثالث مقرر کیا تھا جو اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی اور قربت کافی پراناہے۔
اب تاریخ کے نئے دور میں فوجی معاہدات سے معاشی معاہدات اور تعلقات کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا تجارتی حجم 5ارب ڈالر ہو جو کوئی مشکل بات نہیں۔ ایران تیل پیدا کرنے والا دنیا کا ایک بڑا ملک ہے اور اس کی برآمدات کی آمدنی سالانہ 40ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ برآمدات تیل کی برآمدات سے الگ ہیں اس لئے پاکستان ایران سے زیادہ سستی اشیاء خریدسکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایران اپنا تجارتی ہدف حاصل نہ کرلے۔
بہر حال ایران کو بھی تجارت میں توازن پیدا کرنا ہوگا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایران صرف برآمدات کرے اور پاکستان سے کوئی چیز نہ خریدے یا بین الاقوامی تجارت یک طرفہ ہو۔ ایران کی حکومت کو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے کے لیے پاکستان اور خصوصاً پاکستانی بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ یہاں سرمایہ کاری کے اتنے مواقع دستیاب ہیں کہ ہماری دو طرفہ تجارت 5ارب کے بجائے 10ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
زیادہ بہتر سہولیات سے پاکستان ایران سے زیادہ مقدار میں تیل اور گیس خریدے گا۔ ایران کو اپنی سرحدات کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے پاکستانی بلوچستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہئے خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان ایران اور پاکستان کی استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے، بلوچستان میں ایران کے لیے وسیع سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ان میں ماہی گیری، زراعت، گلہ بانی، صنعتیں اور دیگر شعبے شامل ہیں۔
دو برادر ملکوں کے درمیان تجارت اور معاشی تعلقات کو زیادہ مضبوط بنانا ضروری ہے۔گزشتہ روزوزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی انقلاب ایران کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایرانی قونصلیٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایران اور پاکستان کے درمیان عظیم سیاسی، ثقافتی اور معاشی تعلقات ہیں اور ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان دین اسلام کا مضبوط رشتہ بھی ہے۔
، ہرمشکل وقت میں دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیاہے ، دونوں ممالک کی سیاسی قیادت ان تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کے لئے پر عزم ہے اور باہمی تجارت کے ہدف کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کی دنیا میں ملکوں کے درمیان تعلقات معیشت کی بنیاد پر دیکھے جاتے ہیں اور جن ممالک کے درمیان معاشی تعلقات بہتر ہوتے ہیں دنیا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کو وسیع کرنے کی بے پناہ گنجائش ہے جس میں سیستان بلوچستان اور بلوچستان اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ سے دونوں ممالک بالخصوص سیستان بلوچستان اور بلوچستان کے عوام کو بہت فائدہ پہنچے گا اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی ۔
پاک ایران تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دیاجائے کیونکہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے میں معاشی تبدیلی رونما ہوگی جس کا برائے راست مثبت اثرات بلوچستان پر پڑینگے ۔ بلوچستان کی طویل سرحدی پٹی اور دونوں ممالک کی بندرگاہوں کو معاشی حوالے سے بروئے کار لاتے ہوئے اربوں روپے ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں جس میں پاکستانی بلوچستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔
پاک ایران تجارتی تعلقات ، بلوچستان کااہم کردار
![]()
وقتِ اشاعت : February 12 – 2019