|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2019

ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولزایک منافع بخش کاروبار کا روپ دھار چکے ہیں اس کی ایک وجہ سرکاری اسکولوں میں بہترسہولیات کا فقدان، ہنرمندو تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی، بچوں کی بہتر ذہنی نشوونما کیلئے تربیت کی عدم فراہمی اور تعلیمی ماحول کا نہ ہونا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں پر توجہ مرکوز کی جاتی اور ان میں تعلیمی ماحول کیلئے کام کیاجاتا تو شاید آج ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار نہیں ہوتی ۔

بدقسمتی سے عوام کو کسی سطح پر کوئی ریلیف نہیں ملا ،تعلیم جو بنیادی حق ہے اس سے بھی یہاں کے غریب عوام محروم ہیں، آج بھی لاکھوں کی تعدادمیں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جس کی ایک بڑی وجہ غربت ہے کیونکہ غریب والدین پرائیویٹ اسکولوں کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے جبکہ سرکاری اسکولوں کا معیار ایسا نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو وہاں داخلہ کرائیں اس لئے بیشتر والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے انہیں پرائیویٹ اسکولو ں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں ۔ 

پرائیویٹ اسکولوں میں ماضی میں سالانہ چھٹیوں کے دوران اسکول فیس اور وین گاڑیوں کے کرایے وصول کیے جاتے رہے ہیں اور ساتھ ہی اسکولوں میں یہ رجحان بھی بڑھتاگیا کہ اسکول انتظامیہ یونیفارم، کتابیں سمیت تمام اشیاء اسکول سے خریدنے کے پابند کرتے جو کہ ایک مکمل کاروبار ہے۔ 

اگر ماضی میں حکمران اس اہم مسئلہ پر توجہ دیتے تو صورتحال میں بہتری کے امکانات ہوتے۔ گزشتہ روزسپریم کورٹ میں نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ،ہم اسکولوں کو بند اور نیشنلائیز بھی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 2 نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے نجی اسکول کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جرات کیسے ہوئی کہ اسکول فیس کے عدالتی فیصلے کو ڈریکونیئن فیصلہ کہا، والدین کو لکھے گئے آپ کے خطوط توہین آمیز ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ آپ کس قسم کی باتیں لکھتے ہیں، ہم آپ کے اسکولوں کو بند کر دیتے ہیں، نیشنلائز بھی کرسکتے ہیں، سرکار کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے اسکولوں کا انتظام سنبھال لے۔عدالت کے اظہارِ برہمی پر نجی اسکول کے وکیل نے کہا کہ ہم عدالت سے معافی کے طلب گار ہیں، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔

اس پر جسٹس گلزار نے کہاکہ ٹھیک ہے آپ تحریری معافی نامہ جمع کرادیں ہم دیکھ لیں گے، آپ کے پاس کالا دھن ہے یا سفید، ہم آڈٹ کرالیتے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنالیا ہے، اسکول پیسے بنانے کی کوئی صنعت نہیں، نجی اسکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں۔نجی اسکول کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پر عمل کرکے فیس کم کردی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دئیے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کس قسم کی باتیں کی گئیں،نجی اسکولوں سے کیوں نہ نمٹ لیں، حکومت کو نجی اسکول تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں، نجی اسکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں اور زہرگھول دیا ہے، نجی اسکول والے بچوں کے والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کو سیر کرانے کہاں جاتے ہیں، نجی اسکول یہ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں، جس اسکول کی فیس زیادہ ہو وہی مشہور ہوجاتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے اس مسئلہ کو اٹھانا ایک احسن اقدام ہے اور ساتھ ہی اسکولوں کو نیشلائزکرکے سرکار کو انتظام سنبھالنے کی بات کی گئی ہے یقیناًاب حکومت کو بھی اس اہم مسئلے کی جانب دیکھنا ہوگا کہ سرکاری اسکولوں میں مزید اصلاحات کیسے لائی جاسکتی ہیں تاکہ غریب بچوں کو اعلیٰ تعلیم سرکاری اسکولوں میں مل سکے،اور جو لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

وہ زیورتعلیم سے آراستہ ہوسکیں اور ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں کو بھی قانون کے ماتحت لانا ضروری ہے ،انہیں اس قدر آزادی نہیں ملنی چاہئے کہ وہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے تعلیم کی آڑ میں پیسے کمائیں ۔عدلیہ اپنا کردار ادا کررہی ہے حکومت کو بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔