انتخابات سے قبل ملک میں بڑی تبدیلی کے دعوے کئے جارہے تھے ، قرضوں سے نجات، مہنگائی کا خاتمہ، روزگار اور رہائشی گھروں کی فراہمی کا ایک ایسا تصور پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیا گیا کہ پاکستان کچھ عرصہ کے دوران مغرب نہ سہی مگر ایشیاء کے ان چند ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔
پھر جیسے ہی اقتدار پی ٹی آئی کو ملی تو 100 دن کے بعد کی خوشخبری سنانے کا اعلان کیا گیا بہرحال سو دن گزرنے کے بعد وزیراعظم نے ایک تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہاکہ دیہی عوام اپنے گھروں میں مرغیاں پالیں تو اس سے بھی بڑی معاشی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں اور یہ جملہ طنزیہ طور پر مقبول ہوگیا کہ سو دن کے بعد حکومتی خوشخبری وتبدیلی یہ تھی۔
اقتدار میں کوئی بھی جماعت آجائے جب تک اس کے پاس مکمل معاشی وسیاسی پالیسی پہلے سے موجود نہ ہو ، وہ جتنی بھی جتن کرے ، اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتی ۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں کے اندر ادارے ہی غیر فعال ہیں جو پالیسیاں اور منصوبہ تشکیل دیتے ہیں حالت تو یہ ہے کہ ہر جماعت کے اندر بااثر شخصیات کی اجارہ داری ہے کسی بھی جماعت کی ترجیحات میں عام سیاسی ورکر شامل نہیں چاہے وہ کتنی بھی باصلاحیت ہو۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اتنے قابل اور پڑھے لکھے لوگ بھی موجود نہیں جو سماجی ومعاشی تبدیلی سمیت عالمی سطح پر موجود چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔ ہر جگہ من پسند اورخاص کر بااثر شخصیات کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس الیکشن لڑنے کیلئے پیسے اور چندہ دینے کی سکت ہو اور انتخابات میں اس کی جیت یقینی ہو۔
اس طرح کی سیاسی ومعاشرتی ڈھانچہ کی موجودگی میں یہ امید لگانا کہ عام لوگوں کی اقتدار تک رسائی ہوگی یا ان کے مسائل کا حل ہونگے ، محض خام خیالی ہے۔پاکستان تحریک انصاف جب سے حکومت میں آئی ہے اسے بہت سی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے نکلنے کیلئے اسے ماضی کی حکمرانوں کی طرح آئی ایم ایف کی طرف دیکھنے پڑرہا ہے ۔
جن قرضوں سے نجات دلانے کے دعوے کئے گئے تھے ،ماضی کے حکمرانوں کی طرح وہی دلیلیں موجود حکومت بھی دے رہی ہے کہ یہ بحرانات ہمیں ورثہ میں ملے ہیں ۔کسی بھی حکومت نے اپنی معیشت کی خودانحصاری پر زور نہیں دیا کہ کس طرح وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم بحرانات کا حل نکال سکتے ہیں سو سب سے آسان طریقہ قرض لینا اور ایک دوسرے پر کرپشن سمیت دیگر الزامات لگاکر جان چھڑانا ہی بہترین فارمولا قرار پاتا ہے جسے ہر دور میں استعمال کیاجاسکتا ہے۔
حکومتی جماعتیں جتنی بھی رہی ہیں وہ سب ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں بھلا وہ کس طرح عام لوگوں کی زندگی کو سمجھنے اور بسرکرنے سے واقفیت رکھتے ہیں۔آج بھی ٹیکس صرف عوام دے رہی ہے جبکہ قرضوں کی وصولی بھی مہنگائی کے ذریعے عوام سے کی جارہی ہے جو ہماری معاشی پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ حکمرانوں کے پاس کوئی حکمت عملی ہی نہیں۔
جبکہ عالمی سطح پر بھی ڈپلومیٹک طریقے سے تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے معاشی وسیاسی حوالے سے بھی توجہ نہیں دی جارہی تاکہ دوست ممالک کے ذریعے تجارت کو وسعت دی جاسکے اور جس طرح سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اس میں بھی دشمن ملک کو ناکامی کا سامنا کرناپڑے ۔
بہر حال ملک میں اس وقت تحریکیں چلانے اور جیل میں ڈالنے کی باتیں کی جارہی ہیں جو ہمارے سیاسی تاریخ کا حصہ رہی ہیں کہ کس طرح ایک جماعت نے مخالف جماعت کے لیڈران ورہنماؤں کو جیل میں ڈالا مگر ملکی مسائل پر کبھی بھی مل بیٹھ کر راستہ نہیں نکالاگیا کہ کس طرح سے ملک کی معیشت اور اداروں کو مضبوط بنایا جائے ۔
کرپشن ، ٹیکس،ریلیف، انصاف کی فراہمی، قرضوں سے نجات ، معاشی خودانحصاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیم ، صحت جیسے بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے پروگرام تشکیل دینا شاید آج بھی یہ سب ترجیحات کاحصہ نہیں مگر آج جس طرح کے حالات کا سامنا عوام کررہی ہے ان کی دلچسپی سیاسی جنگوں اور تحریکوں سے ختم ہوچکی ہے کیونکہ عام لوگ صرف اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے جسے پورا کرنا عوام سے ووٹ لینے والے نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔
عوام کے مسائل کب حل ہونگے؟
![]()
وقتِ اشاعت : April 7 – 2019