کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے حکومتی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت میں اگر حکومت کرنے کی اہلیت نہیں تو اسے حکومت چھوڑ دینی چائیے۔اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنا صوبائی وزراء اور حکومتی اراکین کی ذمہ داری ہے۔
اپوزیشن اراکین نے اجلاس میں شرکت نہ کرکے حکومت کو باور کرایا ہے کہ ہم جب چائیں کورم توڑ سکتے ہیں۔تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بلوچستان کیلئے کچھ اعلان کئے بغیر لوٹے ہیں۔ سی پیک کے منصوبوں سے متعلق حکومت اپوزیشن سے رہنمائی لیتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندرایڈووکیٹ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرملک نصیرشاہوانی، چیئرمین پبلک اکا ؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو اورپشتونخواملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے نے اپوزیشن چیمبر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر اراکین اسمبلی زابد علی ریکی،احمد نواز بلوچ،اصغر علی ترین،شکیلہ نوید دہوار،حاجی نواز کاکڑ،میر یونس عزیز زہری، ٹائٹس جانسن سمیت دیگر بھی موجود تھے، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ اجلاس اپوزیشن نے ریکوزیٹ کیا تھا۔
اجلاس میں ہمارے بہت سارے مسائل تھے جن پر بات ہوناتھی ان پر بات نہ ہوسکی۔ہماری ریکوزیشن پر بلائے جانیوالے اجلاس کو پینل آف چیئرمین نے بزنس پورا ہونے سے قبل ملتوی کیا۔ آج ہونے والے اجلاس میں کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی تین مرتبہ گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم حکومت سے کورم پورا نہ ہوسکا۔
موجودہ حکومت اس طریقہ سے صوبے کے معاملات کو نہیں چلاسکتی نہ ہی عوام کی خدمت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محض ان چار شعبوں پر توجہ دیتی جن پر عدالت نے توجہ دینے کی ہدایت کی ہے تو آج 60 سے 70 ارب روپے خرچ ہوچکے ہوتے۔
گزشتہ ایک سال سے بلوچستان کے لوگ ترقی کے عمل سے محروم اس عرصہ میں حکومت کی دلچسپی ذاتی ترقی پر مرکوز رہی ہے جو قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو صورتحال صوبائی حکومت کی ہے ایسی ہی صورتحال وفاقی حکومت کی بھی ہے دونوں حکومتیں ناتجربہ کار ہیں ان کو محض اپنی ترقی سے دلچسپی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ جن معاملات میں ہم سے رہنمائی چاہیں گے ہم مدد کو تیار ہیں اگر حکومت ہماری پیش کش قبول کرتی تو آج بلوچستان کے بہت سے مسائل حل ہوچکے ہوتے،جس کے پاس کوئی حکمت عملی نہ ہو ایسی حکومت حکمرانی کے قابل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس منصوبے کا افتتاح کیا اسکا افتتاح 2009ء میں وفاقی وزیر حاجی رحمت اللہ کاکڑ کرچکے ہیں یہ منصوبہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے جس علاقے میں گھر بنائے جارہے ہیں وہ سیلابی پانی کی زد میں آتا ہے وزیراعظم سی پیک کے جس روڈ کا افتتاح کر رہے ہیں وہ ژوب میں ہوچکا ہے۔
انہوں نے اسی روڈ کا کوئٹہ سے افتتاح کیااپوزیشن بے زار نہیں بلکہ عوامی حقوق کی پامالی پرپریشان ہے اگر حکومت اپوزیشن کوساتھ لیکر چلتی تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی سیندک پر جو کمیٹی بنائی گئی اسکا اجلاس اس لئے نہیں بلایا جارہا کیونکہ اس میں اپوزیشن ارکان شامل ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کے ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس میں کور م پورا کیا اور حکومت آج ہونے والے اجلاس میں کورم پورا نہ کرسکتی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن حکومت سے زیادہ طاقتورہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کبھی کبھار اجلاس کے دوران آخری لمحات میں شرکت کرکے اپنی تقریر کی لمبی تمہید باندھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں صوبے میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے صوبے سے پسماندگی کا خاتمہ اور عوام خوشحال زندگی گزاررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے شرکت نہ کرکے حکومت کو یہ باور کرایاکہ پوزیشن جب چاہے اسمبلی کا کورم توڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ نو ماہ کے دوران وزیراعلیٰ، وزراء کا انتخاب اوروزراء کی تبدیلی کے علاوہ کچھ نہیں کرپائی ہے کل تک جن وزراء کے قلمدان کچھ اور تھے آج کچھ اور ہیں۔
بلوچستان میں ورلڈ بینک نے لوگوں کو پانی کی فراہمی کیلئے اپنا 32 ارب روپے کا منصوبہ اس لیے شروع نہیں کیا کہ حکومت ورلڈ بینک کو منصوبہ میں شفافیت کو یقینی بنانے کی یقین دہانی نہیں کراسکی۔ بلوچستان میں لوگ حصول آب کیلئے میلوں فاصلہ طے کرنے پر مجبور انسان اور جانور ایک جگہ سے پانی پی رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے دورے کے موقع پر کہا کہ بلوچستان کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ انہیں بہترین وزیراعلیٰ ملاہے دراصل ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ وزیراعلیٰ کچھ مانگ نہیں سکتے اور میں کچھ دونگا نہیں تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم صوبے کا تین سے چار مرتبہ دورہ کرنے کے بعد بھی کچھ اعلان کئے بغیر واپس لوٹ گئے ہیں۔ موجودہ پی ایس ڈی پی لیپس ہوچکا ہے خدشہ ہے کہ آنیوالا پی ایس ڈی پی بھی لیپس ہوجائے گا۔
حکومت میں وہ لوگ شامل ہیں جو گزشتہ تیس سالوں سے حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ اسی پارٹی کے اس وقت کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجواور اسکی کابینہ نے بنایا تھا۔
چیئرمین پی اے سی اختر حسین لانگو نے کہا کہ حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اگر نواب اسلم رئیسانی چار چار ماہ اسلام آباد میں رہتے تھے تو وہ وہیں رہ کر این ایف سی ایوارڈ دلائے صوبے کا بجٹ 300ارب روپے تک پہنچا یا انکا اپنی حکومت پر مکمل کنٹرول تھا لیکن موجودہ حکومت اس قسم کی کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ حکومت 42میں سے 17ارکان بھی حاضر نہیں کرسکتی صوبے میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے حکومت وزراء اور غیر منتخب معاونین میں فنڈ کی بندر بانٹ کر رہی ہے اربوں روپے خزانے میں پڑے ہیں۔
لیکن حکومت انہیں خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی 9ماہ سے ڈیڑھ ارب روپے خزانے میں پڑے ہیں لیکن زکواۃ کونسل نہیں بن پارہی ہے جو غریب مریضوں پر پیسے خرچ کرے یہ حکومت حکمرانی کا حق نہیں رکھتی اسے مستعفی ہوجانا چاہئے۔
نصراللہ زیرے نے کہا کہ موجودہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی تعداد 42 ہے جن میں 17 ممبران نے بھی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی زحمت نہ کی اجلاس میں ہزار گنجی اورماڑہ چمن میں پیش آنیوالے دہشتگردی کے واقعات اور پر بحث ہونا تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس غیر منتخب لوگوں سے بھرا ہوا ہے، ہزاروں مہلک امراض میں مبتلا مریض علاج کی سکت نہ ہونے سے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔