کوئٹہ : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہوچکی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس خسارہ 800ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، 18ویں ترمیم کے مخالف نہیں تاہم مسائل کے حل کے لئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو بنیا دی سہولیات دیں لوگ پہاڑوں پر اور دشمن ایجنسیوں کے پاس نہیں جائیں گے۔
ملک میں نظام یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے صدارتی نظام کی حمایت نہیں کر رہا، ملک کے تمام تاجر نیب کے ڈر سے سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں، حکومت نے 10لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیاہے 400صنعتیں بند ہونے جارہی ہیں متحدہ قومی موومنٹ 30ہزار لوگوں کو قربان کرنے کے باوجود بلدیاتی اختیارات لینے اور اپنی 11سیٹیں جیتنے میں ناکام ہوچکی ہے،یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر پارٹی کے صدر انیس قائم خانی، وائس چیئرمین اشفاق منگی، ثناء اللہ آغا، عطاء اللہ کرد بھی انکے ہمراہ تھے۔
سیدمصطفی کمال نے کہا کہ ملک کے جس بھی حصے میں جاؤ وہاں حالات خراب ہیں، کراچی، حیدر آباد کچرہ کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں بلوچستان میں لوگ بلخصوص خواتین 4گھنٹے پیدل چل کر پانی لینے جاتے ہیں لاپتہ افراد کا معاملہ بھی سنگین ہے ریاست کو چاہیے کہ وہ لاپتہ افراد کو موقع دیکر انہیں اپنی ماؤں کے پاس بھیجے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خوشی سے ہتھیار نہیں اٹھاتا آخر ہم کب تک لڑیں گے پاکستان کے تمام بارڈ اس وقت ایکٹو ہیں بھارت، افغانستان، ایران سے ہمارے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں افواج پاکستان تمام سرحدوں پر مصروف ہیں بھارت نے ہمسایہ ممالک میں ہمارے خلاف سرمایہ کاری کی ہوئی ہے،ان تمام مسائل کی جڑ بھوک افلاس،بے روز گاری اور اختیارات کا نچلی سطح منتقل نہ ہونا ہے۔
،ملک کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرور ت ہے اس سے لوگوں میں شمولیت اور ملکیت کا احسا س پیدا ہوگا انہوں نے کہا کہ آئین و جمہوریت کو ہمیشہ ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن جولوگ آئین کے آرٹیکل 8سے 25تک عوام کو بنیادی حقوق نہیں دیتے ان پر کبھی بھی آرٹیکل چھ نہیں لگا،انہوں نے کہا کہ دشمن ایجنسیوں کے ساتھ لوگ اس لئے مل رہے ہیں کیونکہ ہمارے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ایف آئی آر درج کروانے کے لئے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں اگر ریاست چاہے کو یہ مسائل ختم ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو دئیے گئے جس کے بعد وزیراعلیٰ چوہدری بن گیا صوبے کے ہر ضلعے یا یونین کونسل تک اختیارات پہنچ نہیں سکے جس کے بعد محرومیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 18ویں ترمیم کی حمایت کرتے ہیں اس ترمیم کی روح کے مطابق اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہئیں۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر 10سال بعد صوبوں کو ملنے والے سرمائے کا جائزہ لیا جاتا ہے اسی طرز پر صوبوں کو صوبائی فنانشل ایوارڈ تشکیل دینا چاہئے وفاق سے صوبوں کو ملنے والا پیسہ وزیراعلیٰ کی مرضی سے خرچ ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ گٹر لائن اور پانی کا انچارج بننے کی بجائے سینکڑوں تحصیلوں کو یہ اختیارات دیں اور اسکا کریڈٹ لیں کہ انہوں نے کام کروائے اس سے ہر ضلعے دیہات تک ترقی ممکن ہوگی،انہوں نے کہا کہ ایک آدمی تبدیلی نہیں لا سکتا میں وزیر اعظم بنا تو ہزاروں لوگوں کو اختیارات دیکر ملک کے مسائل ٹھیک کرونگا۔
حکومت نہ ریونیو بڑھا سکی یہ ہی مہنگائی کم کرسکی اب آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے جارہا ہے 8ماہ میں زبردست تبدیلی آئی ہے ڈالر 140روپے کا ہوگیا، تیل،گیس، بجلی مہنگی ہوگئیں جو گھر 10ہزار روپے میں چلتا تھا اب وہ 21ہزار روپے میں چل رہا ہے جبکہ آمدن میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں ہوا، وفاقی حکومت مہنگائی کم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جو 5ارب ڈالر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،چین سے لئے گئے ہیں ان کی ساڑھے 6ارب روپے کی ادائیگی کیسے کی جائیگی؟
مصطفی کمال نے مزید کہا کہ مشرف دور میں ٹیکس ریونیو 1ہزار ارب، پیپلز پارٹی کے دور میں 2ہزار ارب، گزشتہ حکومت میں 4ہزار ارب تھا جبکہ موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ میں 800ارب روپے ٹیکس کلیکشن خسارہ ہوگیا ہے لوگ ٹیکس نہیں دے رہے مہنگائی کی شرح 9.3فیصد سے تجاوز کر رہی ہے اڑھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے،بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظام یکسر بدلنے کی ضرورت ہے صدارتی نظام کی بات نہیں کررہا لیکن ہمیں بہتری لانے کے لئے قومی اسمبلی میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دینے کی ضرورت ہے جی ٹی روڈ کی 90سیٹیں جیت کر وزیراعظم بننے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے وزیراعظم بلوچستان یا دیگر صوبوں میں صرف حادثات میں تعزیت کرنے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چور چور کا نعرہ لگا کر تمام سرمایہ کاروں کو بھگا دیا گیا ہے اب سرمایہ کاری نیب کے ڈر سے سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں تمام سرمایہ داروں نے بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکال کر گھروں میں منتقل کردئیے ہیں۔
حکومت نے 200ارب ڈالر بیرون ملک سے لانے، 1کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا مان لیا کہ آپ سے غلطی ہوئی ہے لوگوں کو روزگار دے نہیں سکتے تو انہیں سے چھینیں بھی نہیں 10لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیاہے 400صنعتیں بند ہونے جارہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مہاجر کے نا م پر لوگوں کو ورغلایا ایم کیو ایم کو معلوم ہوگیا ہے کہ اب انکی کوئی عوامی پذیرائی نہیں آج وہ کے ایم سی کے ملازمین کو بلا کر جلسے کریں گے اور پھر تین چار ہزار لوگوں کی تصاویر شیئر کر کے تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا دعویٰ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو جماعت 30ہزار لوگوں کو مروا کر اپنی 11سیٹیں نہیں جیت سکی اور وہ آج تک گٹر لائن کا اختیار بھی لے سکی وہ مہاجروں کے لئے کیا کریگی وہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کھلی عام بات کر رہے ہیں۔
پی ایس پی کے ساتھ پشتون، بلوچ، ہزارہ،سندھی ہر قوم کے لوگ ہیں ہم کامیاب ہوگئے ہیں ہمیں سیٹیوں کی ضرورت نہیں جب چاہیے ہونگی ہم اللہ مد د سے وہ بھی حاصل کریں گے انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو دئیے جانے والے معاوضے کو بڑھایا جائے اور معاوضے کی ادائیگی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔