|

وقتِ اشاعت :   April 28 – 2019

کوئٹہ: باخبر اور معتبر ذرائع کے مطابق بی ایس او ایک دفعہ پھر تقسیم کے دروازے پر دستک دینے کیلئے کھڑی ہے پہلی دفعہ جب تربت میں ایک پارٹی اجتماع میں پارٹی کے مرکزی اور باشعور رہنماؤں نے الیکشن 2017 میں پارٹی کی شکست کے پیچھے اسباب کو بی ایس او کے نوجوانوں کے سر باندھ لیا تھا تو اسی دوران بی ایس او کے چند باشعور نوجوان اور متحرک قیادت نے بھانپ لیا تھا کہ آگے چل کر ان کے ساتھ کیا سلوک ہونے جا رہا ہے۔

حالانکہ بی ایس او کے باشعور متحرک قیادت نے اس وقت دانش مندی کا ثبوت دیکر تنظیم کو ٹوٹنے اور تقسیم ہو نے سے بچانے کی انتھک محنت کی تھی تنظیمی قیادت ان کے کونسل سیشن کے دوران پارٹی کے اقتدار میں ہونے کے باوجود مالی مدد و معاونت فراہم نہ کی گئی۔

اس ادارے کے ساتھ کے تنظیم کے بیروزگار اور معاشی طور پر کمزور قیادت مجبور ہو جائے گی کہ انہی تنظیمی وفاداریاں پارٹی رہنماؤں کے پاس گروی رکھے لیکن بی ایس او کے متحرک اور فعال قیادت نے اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف اپنا کونسل سیشن منعقد کیا بلکہ پہلی دفعہ پارٹی رہنماؤں سے صلاح ومشورے کے بغیر تنظیمی کابینہ تشکیل دے کر ان کے منتخب کرایا لیکن اس منظر نامے میں پارٹی قیادت کو الیکشن میں زبردست شکست اور مقتدرہ حلقوں میں پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے دوبارہ بی ایس او کی تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہیں۔

لیکن بد قسمتی اس وقت بی ایس او کی مرکزی قیادت پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ایک پیج پر نہیں اس وقت پارٹی قیادت بڑے مخصمے سے دوچار ہے کیونکہ موجودہ حالات میں مقتدرہ حلقوں کی جانب سے پذیرائی حاصل کرنے کے لئے انہیں مخصوص سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

لیکن بی ایس او قیادت بشمول چیئرمین گزشتہ سیشن میں پارٹی رہنماؤں کی جانب سے روا رکھے جانے والے رویے کے تناظر سے دل برداشتہ ہے اور ان حالات میں پارٹی قیادت کے احکامات کی بجا آوری سے سینہ زوری کی حد تک انکاری ہے۔

لیکن پارٹی رہنماؤں کی جانب سے بی ایس او کے قیادت کی طرف عدم رویوں نے پارٹی رہنماؤں کو مجبور کر دیا ہے کہ تنظیم کی مرکزی قیادت کو سبق سکھائیں اس کیلئے پارٹی کے اندر ایک مخصوص لابی سرگرم ہے جو موجود تنظیمی قیادت کو تبدیل کرنے کیلئے پر تول رہی ہے اس سلسلے میں پارٹی میں موجود اس لابی نے بی ایس او کی مرکزی قیادت سے صلاح ومشورے شروع کر دیئے ہیں۔

اس مرحلے میں پارٹی قیادت تنظیم میں موجود ہم خیال گروپ کی تشکیل میں سرگرم عمل ہے کیونکہ بی ایس او کے نوجوانوں کی احتجاج کے بغیر ان کے لئے مشکل ہے کہ پانچ سال حکمرانی کے بعد ملکی مقتدرہ کو ذاتی اور پارٹی بنیاد بلیک میل کر سکیں اس لئے ان کے سامنے بہترین آپشن بی ایس او ہے جس کو استعمال کر کے وہ ایک دفعہ پھر مقتدرہ کے منظور نظر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس مرحلے میں دیکھنا ہے کہ پارٹی قیادت بی ایس او کی قیادت یا آگے چل کر بی ایس او تقسیم کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گی اس سلسلے میں اصل امتحان بی ایس او کے موجودہ قیادت کی ہے۔

One Response to “بی ایس او کی مزید تقسیم کے امکانات”

  1. Naveed baloch

    محترم سطحی معلومات ہیں آپ کے پاس، آپ کی خبر اگر بی ایس او پچار گروپ کی طرف ہے تو آپکو معلوم ہونا چاہیئے کہ بی ایس او پچار اب نیشنل پارٹی کی ایک زیلی تنظیم کا مقام رکھتی ہے، جسکی دستوری ساخت کو نا چھیڑ کر نیشنل پارٹی نے اسے روایتی طلبہ سیاست سے الگ تھلگ نہیں کرنا چاہا ہے وگرنہ تو بی ایسی صورتحال میں اپنا ایک زونل باڈی اجلاس بھی صرف اور صرف اپنے بل بوطے پہ کرنے کی صلاجیت نہیں رکھتی تو توڑنے والے دوست توڑنے کی صلاحیت کہاں رکھ سکتے ہیں گے۔۔۔۔
    بی ایس او پچار کامزید تقسیم کا شکار ہونا بہت مشکل عمل ہوگا ہاں یہ ممکن ہے کہ کچھ دوست رٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں اور کچھ نئے دوستوں موقع میسر آئے۔

Comments are closed.