چینی دارالحکومت بیجنگ میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی جس کے بعد اموات کی تعداد بڑھ کر 106 ہوگئی۔ کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین بھر میں مریضوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کرگئی ہے۔ چین کے17 شہروں میں ٹرین، بس اور فضائی سروس مکمل بند ہے جب کہ ہانگ کانگ کے ریلوے اسٹیشن سنسان پڑے ہیں۔وائرس کے باعث ہانگ کانگ حکومت نے سرکاری ملازمین کو چھٹیوں کے بعد گھروں سے ہی کام کرنے ہدایت کردی جب کہ ہانگ کانگ اور ملائیشیا نے اپنے شہریوں کو صوبے ہوبئی کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فلپائن نے چینی شہریوں کیلئے ویزا آن ارائیول کی سہولت ختم کردی ہے۔جرمنی اور کمبوڈیا میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آگئے جب کہ وائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے منگولیا نے چین اور شمالی کوریا کے ساتھ اپنی سرحد مکمل بندکردی۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرس ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Cats Civet جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔اب بھی بہت سارے کورونا وائرس ایسے ہیں جو جانوروں میں پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک انسان ان سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔اب تک کوروناوائرس کے سب سے زیادہ کیسز چین کے صوبہ ہوبئی، جس کا دارالخلافہ ووہان ہے، میں رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ تھائی لینڈ میں 4 جبکہ جنوبی کوریا، تائیوان، جاپان اور امریکا میں بھی اس کا ایک ایک کیس رپورٹ کیا گیا۔
جن لوگوں میں یہ وائرس پایا گیا ان کا تعلق یا تو ووہان سے تھا یا ماضی قریب میں ووہان میں موجود تھے۔بہرحال ایسی مہلک بیماریوں کے وائرس سامنے آنے کے بعد شدید تشویش پھیل جاتی ہے جس ملک سے اس کے وائرس کی تصدیق ہوجاتی ہے وہاں سے آنے والے مسافروں کے مکمل ٹیسٹ کئے جاتے ہیں تاکہ اس کے وائرس مزید نہ پھیل سکیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ابھی تک ممکن نہیں ہوا، دنیا بھر میں پاکستان اورافغانستان اب تک پولیو جیسے خطرناک بیماری کے وائرس کاشکار ہیں اور ہر سال نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جس سے ہمارے معصوم بچے عمر بھر کی معذوری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ جہاں والدین کی پولیو ویکسیئن پلانے سے انکار ہے وہیں۔
پڑوسی ممالک سے غیر محفوظ آمدورفت بھی ہے جس کی وجہ سے پولیو وائر س ملک میں پھیلتا جارہا ہے خاص کر بلوچستان اور کے پی کے اس سے شدید متاثر ہیں کیونکہ یہ دونوں صوبے افغان سرحد سے منسلک ہیں۔لہٰذا کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھائے کیونکہ چین اور پاکستان کے درمیان شہریوں کی زیادہ آمدورفت رہتی ہے۔تمام ہوائی اڈوں پر ہنگامی بنیادوں پر اس وائرس کے حوالے سے انتظامات کئے جائیں تاکہ مسافروں کے ٹیسٹ کئے جاسکیں اور وہ تمام آلات جو اس وائرس کی تصدیق میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں ان کا بندوبست کیاجائے تاکہ یہ وائرس پاکستان میں نہ پھیل سکے۔ احتیاطی تدابیر سے اس خطرناک وائرس سے بچا جاسکتا ہے وگرنہ یہ مہلک بیماری مزید چیلنجز کا سبب بنی گی۔