کوئٹہ : تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ گذشتہ شب بروری روڈ احتجاجی کیمپ کے سامنے ہوا مظاہرے میں کرونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اپنائی گئی تھی مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر بی ایم سی بحالی کے نعرے درج تھے مظاہرے سے چیرمین تحریک بحالی حاجی عبداللہ خان صافی میر زیب شاہوانی رحمت اللہ زہری اور باسط شاہ نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ حکومت معاہدے کر کے بھول گئی ہے حکومت کو معاہدے یاد کرانے کے لیے احتجاج کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ محنت کش ملازمین کا استحصال کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کرونا سے بھوک اور ناانصافیاں زیادہ خطرناک ہیں دو سال ہوگئے ہیں ادارہ رئیاٹرڈ ملازمین کے واجبات ادا نہیں کر پا رہاہے اور نہ ہی دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے واجبات اداکیے گئے۔
ملازمین کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ادارے میں قانون کا مذاق بنا دیا گیا ہے سزایافتہ ملازمین کو نوازا جا رہا ہے منظور نظر افراد کو قانون کے برعکس نوازا جارہا ہے انتظامیہ سے کوئی جھگڑا نہیں مگر قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے اور ملازمین و طلباء کے تحفظ احتجاج کرتے رہینگے ادارے کو تباہی سے بچانے کے لیے بھر پور جد وجہد ناگزیر ہے اور اگر اس کو انتظامیہ اپنے خلاف تحریک سمجھتی ہے تو سمجھتی رہے ہم ہر گز حقوق سے دستبرادر نہیں ہونگے چاہیے انتقامی کاروائیوں میں کتنی بھی شدت لائی جائے انتظامیہ کی جانب سے سیلف فنانس سیٹوں کی منسوخی کے احکامات جاری نہ ہونا اور ملازمین کے بچوں کی سیٹوں کا خاتمہ استحصال کی بد ترین شکل ہے۔
غریب ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کر کے ادارے کو چلایا جارہا ہے۔ ادارہ پانی کو ترس گیا ہے اور فنڈ نہ ہونے کا رونا رویا جارہا ہے جبکہ قیمتی گاڑی کا انتظام افسران کے لیے کیا جانا باعث افسوس ہے۔
مقررین نے اس بات کی بھی مذمت کی کہ انتظامیہ کو بلوچستان کے زمینی حقائق معلوم ہیں اسکے باوجود فاصلاتی نظام تعلیم اپنا گیا ہے جب کہ بلوچستان کے ذیادہ تر حصے میں انٹرنیٹ تو کیا موبائل کے سگنل بھی کام نہیں کرتے۔ مقررین نے کہا کہ احتجاج کی بھر پور تیاری کر لی ہے عید کے بعد زبردست احتجاج کیا جائے گا انتظامیہ انتقامی کاروائیوں کے ذریعے مذید سے ہراساں کرنے سے گریز کرے۔
مقررین نے کہا کہ دستخط شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی نے حکومت کے ساکھ پر سوالات اٹھا لیے ہیں جب حکومت اپنے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہو تو صوبے کا انتظام کیسے سنبھال پائے گی۔ مقررین نے کہا کہ اب تک یکطرفہ طور پر معاہدے کی پابندی کرتے آرہے ہیں مگر اب مزید طلباء و ملازمین کے مسائل سے معاہدے کے نام پر چشم پوشی نہیں کرنے دینگے طلباء کے سکالرشپ کا اجرا نہ ہونا صوبے کے قابل محنتی طلباء کو معاشی طور پر ہراساں کرنا ہے۔
دریں اثنا ایپکا کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ نے وڈیو پیغام میں کہا کہ ایپکا کا ہر کارکن تحریک کے ساتھ کھڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی پر صوبے بھر میں احتجاج کیا جائے گا داد محمد بلوچ نے کہا کہ تمام فورم پر مذاکرات میں دلائل سے اپنے موقف کو درست ثابت کر چکے ہیں مگر انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے خلاف ورزی سامنے آرہی ہے اب احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ پر ہوگی ہم حجت تمام کر چکے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ عید کے موقع پر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتیاں ناقابل برداشت ہے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر اب بھی ملازمین کے حقوق پرڈاکہ ڈالا گیا تو احتجاج میں فوری شدت لائی جائے گی۔