وباء اور انسان کا ساتھ نیا نہیں، اسی طرح جہالت بھی انسانی سوچ میں کئی سالوں سے ڈیرہ لگائے بیٹھی ہے۔کرونا سے متعلق نظریہ ضرورت کے مطابق طرح طرح کی تھیوریز پیش کرنی والی قوم اور حکومت باجماعت اس بات کا ادراک کرنے سے قاصر ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔چین اور اور باقی دنیا کا ہمیں پتہ نہیں پاکستان اور باقی بلوچستان کو چھوڑ کر ہم اگر مکران کی جانب نظر دوڑائیں جسے بلوچستان کا لکھنؤ یا کم ازکم روشن خیال علاقہ سمجھا جاتا تھا کی طبی اور سماجی حالات سیاسی حالات سے قطعی مختلف نہیں۔ جس طرح چمن بارڈر کا سیٹھ کرونا کو ڈرامہ قرار دیکر وقتی تسکین حاصل کرنا چاہتا ہے اسی طرح کیچ کا لیکچرار بھی پر سکون ہے۔
راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے لوگ غیر معینہ مدت کی چھٹی کو انجوائے کررہے ہیں۔ دانشور سے ڈاکٹر تک اس بات پر متفق ہیں کہ مکران کا سب سے بڑا مسئلہ واپڈا کا ایس ای ہے جو بجلی کی تاریں کاٹ کر ظلم کر رہا ہے۔احساس ذمہ داری اس قدر حاوی ہے کہ347,190 km²مربع کلومیٹر پر محیط بلوچستان جس کی آبادی 12344739 ہے جہاں آبادی کا تناسب اوسط 35.70 افراد مربع کیلومیٹر پر ایک لیبارٹری قائم کی گئی جس میں روزانہ 150 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے یہ بلاشبہ اس قابل ہی نہیں کہ تصویر کا اصل رخ پیش کرسکے۔
اس بات کو دیکھتے ہوئے نہ ہوگی بھینس نہ بجے گی بانسری کے فلسفے کو ہی سب سے اچھا تصور کیا گیا تاکہ راوی کی نیند میں خلل واقع نہ ہو۔کیچ میں کرونا کا باضابطہ اور قانونی طور پر تصدیق شدہ پہلا کیس کوئٹہ سے براستہ پنجگور جون کے پہلے ہفتے رپورٹ ہوا۔ انیسویں گریڈ کے افسر دفاتر کے دروازے کھٹکھٹائے گئے لیکن کوئی سمپل لینے پر راضی نا ہوا اور جب سمپل لیا گیا تو اس سمپل کو تین دن تربت میں دو دن کوئٹہ کے اکلوتے لیب میں انتظار کرنا پڑا۔ چٹھے دن جب مریض کو اطلاع ملی تو کئی دوسرے لوگ ہجر کی مدت کا شکار ہوچکے تھے،ضلعی انتظامیہ کا بھینس اب بانسری سن رہا تھا۔
جبکہ راوی ابھی بھی نیند کے مزے لے رہا تھا۔اس دوران سماجی تنظیمیں چیختی رہیں جناب کئی لوگ کرونا سے فیضیاب ہوچکے ہیں آپ اب ان کو سند عنایت کردیں تاکہ وہ اپنی عدت پوری کرنے کی تیاری کریں لیکن وہ محبوب ہی کیا جو بات بات پر پگھل جائے۔خیر مہرباں دیر کے بعد پہنچ تو گیا ٹیسٹ لینے پر مشروط راضی بھی ہوگیا لیکن اب یہ انکشاف ہوا کہ اب تک تو کسی کو اس کے کردار کا پتہ ہی نہیں کس نے سمپل لینا ہے کہاں سے لینا ہے کیوں لینا ہے لے کے کیا کرنا ہے؟ یہ بنیادی باتیں حجاب اور قبول سے پہلے ہی طے کی جاتی ہیں لیکن کلمانٹ کوبھروسہ تھا ہی نہیں کہ نوبت نکاح تک پہنچ پائے گی۔
اب کون اور کیوں کوئٹہ کا رخت سفر باندھے حالانکہ سنتی کانوں نے سنا تھا کہ مکران میں ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے لیکن دیکھتی آنکھیں آج تک منتظر ہیں۔ پر پتا چلا کہ اورماڑہ میں ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے ایک امید کی کرن جاگی،کئی جتن کرنے کے بعد پتہ جلا وہاں کٹس نہیں یعنی مطلوبہ نمبر اس وقت میسر نہیں۔ یہ سین ہونے کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کے کامیابی بھینس کے نہ ہونے پر ہی ہے جب بھینس ہوگی ہی نہیں تو بانسری کیونکر بجے گی۔سو ہم نے دوبارہ پرانی ڈگر پر چلنے کا سوچا ہی تھی کہ موبائل نے یاد دلایا کہ کرونا وائرس جان لیوا ہوسکتی ہے یعنی بھینس اب بھی وجود رکھتی ہے۔ اب تو سمجھ ہی نہیں آیا کیا کیا جائے بس ہمارے پاس ایک ظالم لفظ کاش ہی رہ گیا تھا سو ہم نے سوچا کاش ان کو سمجھ آئے اپنا کام کرنے سے ہی روزی حلال ہوتی ہے۔بس حضرت داغ کے الفاظ ہی کیچ کی انتظامیہ پر جچنے لگے
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغ…
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں…