|

وقتِ اشاعت :   June 19 – 2020

قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے ملک کے 22کروڑ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے وزیراعظم عمران اور پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابات میں کئیے گئے بلند وبانگ وعدے اور نعرے یاد کرواتے ہوئے کہا کہ شرم کی بات ہے پندرہ روز سے عوام پیڑول کے حصول کے لیے در پدر ہیں، چینی آٹا چور ملک سے فرار ہو گئے، پچاس لاکھ گھر کہاں،کروڑ نوکریاں، مدینہ کی ریاست کے دعویدار ملازمین کو تنہا چھوڑ کر اپنی تنخواہ میں اضافہ کر لیا، ان سب جھوٹوں وعدوں کی تکمیل نہ کرسکا، عمران خان میں خود کشی کرنے کی ہمت نہیں تو اقدام کشی ہی کر لو۔ یہ تقریر مجھ سمیت 22کروڑ عوام نے سنا۔

ایسا لگ رہا تھا خواجہ آصف نہیں بلکہ سرکاری ملازم ریڑھی بان مزدور تاجر کسان زمیندار بول رہا ہو، ہر طبقہ یہ سمجھ رہا تھا خواجہ نہیں ہم بول رہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی بد ترین جھوٹی حکومت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس میں اپنے موقف پر کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہے، سب سے بڑھ کر اب اتحادی چھوڑنے لگے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل تحریری شرائط پر حکومت میں شامل ہوئے تھے لیکن ان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر بجٹ اجلاس کے بعد علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا کیونکہ سردار اختر مینگل زمیندار بھی ہیں۔

ٹڈی دل کے نقصانات سے واقف ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے 32اضلاع میں ٹڈی دل نے تباہی مچا رکھی ہے وفاقی حکومت کسانوں زمینداروں کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہی ہے،ملک میں پیڑول نہیں ہے بلوچستان کے عوام گیس کے مالک ہیں لیکن دیگر صوبوں کو جانے والی گیس کو سونگھ نہیں سکتے۔ ایسے غیر سنجیدہ افراد کے ساتھ رہنے کے بجائے علیحدہ بہتر ہے۔ سیاست کے کھلاڑی آصف زرداری کا سردار اختر جان مینگل سے رابطہ پی ٹی آئی کے اقتدار کو جھٹکا لگنے کا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد سے بلوچستان پہنچنے والی ہوائیں تبدیلی سرکار کی نوید سنا رہی ہیں۔

شاید میاں محمد سومرو کے لیے درزی سے شیروانی سلوانے کے لیے کپڑا خرید لیا گیا ہے میاں شہباز شریف کا بھی مثبت کردار ہو سکتا ہے۔سردار اختر مینگل کی علیحدگی کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے اراکین وزیراعلیٰ کے خلاف ہو گئے ہیں پی ٹی آئی نہ جانے کیا کرنا چاہتی ہے وزراء اراکین اسمبلی اتحادی ناراض عوام پریشان ہیں ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے کرونا وائرس سے جہاں عوام پریشان ہیں کاروبار تباہ و برباد ہو چکا ہے وہاں بلوچستان میں پی ڈی ایم اے کمیشن بڑھا رہا ہے،کراچی کی فیکٹریوں سے سامان 65 فیصد کمیشن پر خرید رہی ہے 54 کروڑ روپے کے ورک آڈرز تیار ہیں۔

جس میں ماسک 180 ولا 650 میں پڑرہا ہے، 200 والا حفاظتی چشمہ 1000روپے جبکہ 8کروڑ کی ایک مشین 65فیصد کمیشن کے بعد 88کروڑ میں خریدنے کی تیار مکمل کر لی گئی ہے۔بلوچستان میں تیزی سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے لیکن بلوچستان حکومت تھک کر اسپرے بند کردیا ہے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے کرونا کے مریض پریشان ہیں۔شیخ زید ہسپتال کوئٹہ کرونا کے مریضوں کا موت خانہ ثابت ہو رہا ہے جانے والے مریض صحت یاب ہونے کے بجائے موت کے منہ میں جارہے ہیں،عوام سخت پریشان ہیں حکومت لاک ڈاؤن کرنے کے ساتھ کرونا کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان محکمہ صحت کی کرپشن کمیشن پر بھی توجہ دیں، بس اڈوں،بازاروں، ریلوے اسٹیشنوں،مساجد میں روزانہ کی بنیادوں پر اسپرے کیا جائے،سرکاری نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنائیں،دیگر امراض کے لیے او پی ڈیز شروع کی جائیں۔ کوئٹہ کے بڑے قبرستانوں میں گورگن یومیہ ڈیڑھ لاکھ سے دولاکھ روپے قبروں کی کھدائی سے کما رہے ہیں جس سے صرف کوئٹہ میں شرح اموات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کرونا، پیٹرول قلت سمیت دیگر تمام معاملات پر وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔

نہیں تو سردار اختر مینگل کی طرح دیگر اتحادیوں سمیت یوتھ کی بھی حمایت کھو دیں گے آنے والا وقت مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کا ہو گا، بلا ماضی کا حصہ بنتے ہی نیلامی کے لیے تیار ہو گا لیکن کوئی بولی لگانے والا نہیں ملے گا۔