|

وقتِ اشاعت :   June 28 – 2020

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن ساری زندگی لاشعوری طورپر بائیں بازو کی ترقی پسند سوچ کے ساتھ ہم سے جدا ہوگئے۔ طالبعلمی کے زمانے سے امیر جماعت اسلامی تک کا سفر انہوں نے مزاحمتی سیاست کی بنیاد پر کیا۔ اس مزاحمتی سیاست نے جماعت اسلامی کو مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے طبقے سے نکال کر عام لوگوں تک لانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے پارٹی کے اندر انٹی ملٹری اسٹیبلشمنٹ بیداری کو فروغ دیا اوریہ سوچ کافی حد تک پروان بھی چڑھی۔

2013 کو سید منور حسن نے کالعدم تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا تھا جس پر پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی جانب سے ٹی وی پروگرام میں حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دینے کو ’غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے بظاہر بائیں بازو کی سیاست کو خیرباد کہہ کردائیں بازو کی سیاست کو اپنایا تھا تاہم ان کی سوچ بائیں بازو کی ترقی پسند سیاست کی عکاسی کرتا رہا۔ وہ لاشعوری طورپر ترقی پسند تحریک کے دائرے میں سیاست کرتے رہے۔

مگر انھیں کارل مارکس، ٹراٹسکی اور لینن کے افکار نے اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے پیران سری کے دور میں بھی اس سوچ اور نظریہ کو اپنایا ہوا تھا۔ یہ سب شعوری طورپر نہیں کیا جارہا تھا بلکہ نوجوانی کی سیاست کا گہرا اثر تھا۔ اور یہ اتنا گہرا اثر تھا کہ یہ سوچ ان کے خون میں شامل ہوگئی۔ ان کے ہر فیصلے لاشعوری طورپر مارکسسٹ تھیوری کی عکاسی کرتے تھے۔ جس سے پارٹی قیادت بھی منور حسن کے ان فیصلوں سے خوش نہیں تھی۔جماعت اسلامی کے اندر نوجوان قیادت کو ان کی سیاست نے متاثر کیا۔ اور وہ ایک مزاحمتی (انقلابی) سوچ کے ساتھ سامنے آگئے۔

جس کے نتیجے میں بے شمار نوجوان ورکرز کو بلوچوں کی طرح لاپتہ کیا گیا۔ ان کو ٹارچر سیلوں میں اذیت دی گئی۔ ان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کی فیملی کو حراساں کیا گیا۔ گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ بے شمار ورکرز مارے گئے۔ جماعت اسلامی پہلی بار ایک مزاحمتی سیاست سے گزررہی تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر بغاوت جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ پارٹی میں بزرگ اور نوجوان قیادت میں کشیدگی پیدا پائی گئی۔ منور صاحب کی قیادت میں پارٹی پہلی بار مڈل کلاس سے نکل رہی تھی۔

اور ان کی پالیسیاں غریب طبقے کو متاثر کررہی تھیں۔ لوگ جماعت اسلامی کے قریب آنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ آئے دن منور صاحب زیر بحث تھے۔ امیر جماعت اسلامی ہوتے ہوئے بھی ان پر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا مارکسی فلسفہ حاوی رہا۔ تادم مرگ وہ ریاستی پالیسیوں کو مارکسی فلسفے کے دائرے میں دیکھتے تھے اور معروضی حالات کے مطابق موضوعی فیصلہ کرتے تھے۔ ان فیصلوں میں تحریک پسندانہ سوچ کی عکاسی ملتی تھی۔