|

وقتِ اشاعت :   June 30 – 2020

آن لائن کلاسز پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں طالبات نے مظاہرہ کیا،ریڈ زون میں جانے کا ضد کیا، آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبات جذباتی ہوگئیں، اسٹیٹ کے خلاف نعرہ بازی کی، بگڑتے ہوئے حالات پر آفیسران پریشان ہو جاتے ہیں اور زبانی کلامی پولیس آفیسران کو ہدایات جاری کرتے ہیں جس میں بددیانتی شامل نہیں ہوتی ہے تاکہ حالات کنڑول میں ہوں، جانی مالی نقصان نہ ہوں۔ جب وزیراعلیٰ بلوچستان گورنر آئی جی پولیس پر سوشل میڈیا الیکڑانک پرنٹ میڈیا اور سیاسی دباؤ بڑھ جاتا ہے تو اپنے جونیئرز پولیس آفیسران کو سمندر کی تیز لہروں میں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے

ڈاکٹروں اور طالبات پر لاٹھی چارج کا حکم پولیس کے حکام بالا نے دیا جب پریشر بڑھ گیا تو فرض شناس ایس پی کوئٹہ کو عہدے سے ہٹا کر خود کو سرخرو کر لیا گیا۔معتبرذرائع بتاتے ہیں چیف سیکریڑی بلوچستان نے طالبات کو ایک انچ آگے نہ بڑھنے کا حکم دیا جس پر پولیس کے بالا آفیسروں نے حکم پر عمل کیا اور نزلہ ایس پی سٹی کوئٹہ پر گرا، ایک مرتبہ پھر بالا آفیسر پتلی گلی سے نکل گئے۔بات اگر بلوچستان میں آن لائن کلاسز کی کریں تو بلوچستان کا 97فیصد دیہی علاقے موبائل فون اور انڑنیٹ سروس سے محروم ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند کے اپنے حلقہ انتخاب میں کتنے فیصد علاقے میں بجلی اور انڑنیٹ تھری جی فور جی کی سہولت ہے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے حلقہ انتخاب لسبیلہ کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔ دیہاتوں میں اپنی جگہ قومی شاہراہ پر موبائل فون انڑنیٹ سروس دم توڑدیتی ہے۔اسپیکر بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے حلقہ انتخاب آواران دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے 2019میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا،انڑنیٹ اپنی جگہ موبائل سروس آواران سٹی کے سوا کہیں نہیں۔بتایا گیا دہشت گرد موبائل اور انڑنیٹ استعمال کرتے ہیں حاظتی اقدامات کی وجہ سے موبائل سروس محدود ہے

،کیسکو کی بجلی کا نام ونشان نہیں ہے، جنریٹر پر ایک دو گھنٹے بجلی دی جاتی ہے۔ ضلع سبی تاریخی شہر سمیت اردگرد موبائل سروس نہ ہونے کے برابر ہے سبی کی تحصیل لہڑی میں دو سالوں سے 33کے وی بجلی کا ٹرانسفارمر جلا ہو اہے، لہڑی شہر کے علاوہ دیہات بجلی سے محروم ہیں موبائل سروس دہشت گردوں کی وجہ سے محدود ہے،عوام کو راشن بھی ایف سی کی پرچی پر ملتا ہے یہی حال پارلیمانی سیکریڑی بی ڈی اے میر سکندر خان عمرانی کی تحصیل چھتر کا ہے۔ راشن پرچی پر جبکہ موبائل فون انڑنیٹ سروس بھی بند ہے۔

سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی کے حلقہ کی تحصیل گنداخہ بھی انڑنیٹ اور موبائل سروس آکسیجن کی طرح دی جاتی ہے۔صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم خان کھوسہ کا نصف علاقہ ڈیرہ بگٹی کے قریب ہے موبائل سروس اور انڑنیٹ سروس ہے کہ نہیں ہے۔ ڈھاڈر سے دشت کے علاقے قومی شاہراہ سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے شہر موبائل سروس انڑنیٹ سے مکمل طور پر محروم ہیں جب مسافر بولان میں داخل ہوتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں کوئی رابط نہیں ہوتا موبائل سروس دشت پر بحال ہوتی ہے۔یہی حالات سردار اختر جان مینگل، سردار ثناء اللہ زہری،مری اور پشتون کے علاقوں کی ہے، کہیں موبائل سروس ہے تو انڑنیٹ سروس موجود نہیں ہے۔

اراکین اسمبلی وزراء کمشنر ڈپٹی کمشنر فورسز کے آفیسران اپنے اپنے علاقوں کی بد حالی موبائل فون اور انڑنیٹ کی سہولیات نہ ہونے سے واقف ہونے کے باوجود بلوچستان میں آن لائن کلاسز کا طلباء طالبات کے ساتھ ڈھونگ رچانا سمجھ سے بالاتر ہے،وہ بخوبی جانتے ہیں کس ضلع میں موبائل فون اور انڑنیٹ کی سروس موجود ہے اور کن اضلاع میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے فون اور موبائل سروس بند ہے۔بلوچستان کے ایسے بھی علاقے ہیں جہاں موبائل فون سروس نہ کی وجہ سے، شادی غمی میں ایک آدمی جس کو مقامی سطح پر قاصد کہتے ہیں بھیج کر اطلاع دی جاتی ہے۔

بلوچستان میں ایسی صورتحال کے باوجود بلوچستان حکومت کی جانب سے کرونا میں آن لائن کلاسز کا اجراء جگ ہنسائی اور قومی خزانہ کو برباد کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بلوچستان کی طالبات پر لاٹھی چارج کرنے،گرفتاریوں کے بجائے بلوچستان حکومت اور چیف سیکریڑی ان کی بات سنتے اور مسئلہ کا حل نکالتے،بلوچستان کے 32 اضلاع میں موبائل سروس اورانڑنیٹ سروس بحال کرکے تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے لیکن پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے 25روپے پیڑول میں اضافہ کی تو امید کی جاسکتی ہے بلوچستان میں ٹڈی دل کو تلف کرنے،بلوچستان کے چھوٹے زمینداروں کو گرین ٹریکٹر دینے کی امید کم ہی کی جا سکتی ہے۔