|

وقتِ اشاعت :   September 7 – 2020

بلوچستان حکومت کی جانب سے لیویز فورس پولیس بلوچستان کا نسٹیبلری فورس مواصلات تعمیرات حیوانات صحت سمیت دیگر سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے اشتہارات روازنہ کی بنیادوں پر آرہے ہیں بیروزگار نوجوان ایک مرتبہ سرگرم ہوچکے ہیں فوٹو اسٹیٹ فوٹو گرافرز اور کاغذوں تصدیق بلوچستان بورڈ یونیورسٹی کا روزگار بیروزگاروں کی وجہ سے چل پڑا ہے بیروزگار ادھار پر رقم لیکر بھی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کے لیے کوئٹہ کا رخ کر رہے کوئی حکومت بلوچستان کے پالیسی میکروں سے پوچھے نوکری ملنے سے پہلے بیروزگاروں کو مقروض کیوں کر رہے۔

ہو جو امیدوار کامیاب ہوجائیں بعد میں تعلیمی ڈگریاں تصدیق کروائیں جس کا کوئی جواز بھی ہو کیونکہ بلوچستان کا بیروزگار پہلے سے رکن صوبائی اسمبلی سابق سنیڑ بلوچستان نیشنل پارٹی رہنما ثناء بلوچ کی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر سن کرمایوس ہور ہے ان کی بات وزن ہے نصیرآباد میں کمشنر ڈی آئی جی پولیس ایس ایس پی ڈپٹی کمشنر اور ایکس ای این روڈ میر ارسلان خان رند کے علاوہ ایسا لگتا ہے نصیرآباد میں ضعی آفیسرز خاص کر ڈویڑنل آفیسروں کی پوسٹ نام کی ہے ان کے دفاتر میں فرنیچرز کو دیمک کھا رہی ہے یا کمرے بند ہونے کی وجہ سے جنات کے قبضہ ہیں۔

کیونک آفیسروں کی پوسٹنگ سیاسی بنیادوں پر بلوچستان حکومت کا ریکارڈ ہے کیونکہ میرٹ کے نام پر بیروزگار زخمی ہے فوٹو اسٹیٹ کاپی کراکر تھک چکا ہے کاغذات جمع نہ کرنیانڑویو نہ دینے والوں کے آڈرز ہو جاتے ہیں میرٹ کی امید لگانے والے امیدوار ہاتھ ملتے رہے ہیں لیکن بلوچستان میں ایسے بھی آفیسرز موجود ہین جن کے دم پر بلوچستان میں قابل ہوشیار امیدار میرٹ کی آس لگائے بیٹھے ہیں نصیرآباد میں میرٹ کا بادشاہ سابق ڈی آئی جی منیراحمد ضیاء راو اس موجودہ ڈی آئی جی پولیس گوادر تھے کل ان کی خدمات پنجاب حکومت کے حوالے کردی گئیں بجائے میرث کے بادشاہ سے استفادہ حاصل کیا جاتا۔

اور سابق ڈپٹی کمشنر نصیرآباد شہید کیپٹن ر طارق زہری نے آغا حقوق بلوچستان کے تحت محکمہ ایجوکیشن میں اساتذہ کرام بھرتی کے دوران علاقہ دو وزیروں کی ایک نہ سنی وہ چیختے چلاتے رہے اسی دوران حکم نہ منانے پر تبادلہ کردیئے گئے لیکن چیف سیکریڑی سے ایک دو دن کی مہلت مانگی میرٹ لسٹ لگا کر چلے گئے ڈپٹی کمشنر کی کرسی کی لاج رکھ گئے آج پیکج والے ٹیچرز اپنی قابلیت کی بدولت علم کی شمع روشن کر رہے ہیں منیراحمد ضیاء راو بھی نصیرآباد میں میرٹ کی اعلی مثال قائم کی نصیرآباد پولیس کو قابل دفتر عملہ دے گئے آج نصیرآباد پولیس قابل کلرک انگلشن فر فر بولتے لکھتے ہیں۔

جبکہ کلاس فور کی بھرتی کے دوران عملی مظاہرہ کرواتے ہوئے بھرتی کیئے آج نصیرآباد پولیس کے پاس بہترین دھوبی بہتریں باورچی بہترین درکھان بہترین نائی بہترین الیکڑیشن بہترین سوئیپرز موجود ہیں کسی ماں بیوی نے اپنے بیٹے شوہر کو بھرتی کیلیے زیور نہیں بیچا کسی باپ نے گھر فروخت نہیں کیا کسی بیروزگار نے سود پر رقم نہیں اٹھائی تھی وزراء اراکین منہ تکتے رہے گئے راو منیراحمد میرث کردیا اور تبادلہ ہوگئے کئی روز تک ڈی آئی جی آفیس اور ہاوس سے میرٹ زندہ باد کی آوازیں بلند ہوتی رہیں بلوچستان میں ہونے والی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں سفارش سے بیروزگار مایوس ہو چکا ہے۔

ادارے مفلوج ہوتے جا رہے ہیں اگر قابلیت کے برعکس ناتجربہ کا افراد بھرتی ہونگے گے تو محکمہ کیسے پروان چڑھے گا اگر بلوچستان میں بھرتیوں کے عمل کو دیکھا جائے مقامی افراد کو نظر انداز کرکے دوسرے اضلاع سے بھرتی کرکے یونین کونسل اور مقامی افراد کو یکطرف نظر کرنے ایک تو علاقائی سطح پر نا انصافی ہوتی ہے دوسرا نقصان وہ شخص ڈیوٹی سے بھی بھاگتا ہے بلوچستان میں میرٹ کی خلاف ورزی سے بلوچستان کا نوجوان زخمی ہو چکا ہے میرٹ کا جنازہ اٹھتے دیکھ کر پھر بھی بوڑھے والدین کے خوابوں شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے مایوسی کے عالم میں تعلیمی اسناد لیکر فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر پہنچتا ہے۔

کاغذات جمع کرانے والا جب فوٹو گرافر کی دکان پر فوٹو نکلوانے کیلئے جاتا ہے فوٹو گرافر کہتا ہے مسکراو بیروزگار نوجوان مایوسی کی وجہ سے مسکرا بھی نہیں سکتا ہے وہ دل میں سوچتا ہے فوٹو کے دوسو روپے بھی والدین کے ضائع کر رہا ہوں وہ جانتا ہے سفارشی وزیر کی لسٹ یا رشورت سفارش سے بھرتی ہونی ہے آپ اندازہ کریں ماں بیوی کا زیور فروخت گھرفروخت قرض سود پر رقم لیکر بھرتی ہونے والا شخص محکمہ سے کیوں کر مخلص ہوگا جس کا گھر بار ماں بیوں کے زیور فروخت ہو جائیں وہ کیوں کر کسی کی ماں بیوی کے زیور فروخت پر شرمندہ ہونگے بلکہ نہ صرف کرپشن کو فروغ دے گا بلکہ ملکی راز فروخت کرنے میں دیر نہیں کرے گا۔

برطانیہ کے کسی گورے نے بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہائے سے کہا کہ یہ کتا کس لیے رکھا ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہاکہ جانوروں کی حفاظت کے لیے گورے نے کہا ایک پاونڈ دوں گا کتا مجھے فروخت کرو وہ خوش ہو گیا سوچا پاونڈ بڑا کسی چیز کا نام ہو گا وہ راضی ہو گیا پھر کہا کتا ذبح کرو دو پاونڈ پھر کہا تین پاؤنڈ دوں گا کتے کی کھال اتاروں گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرو یہ عمل ہو گیا چروائے نے کہا جناب چار پاونڈ دو گے گورا حیران ہو گیا وہ کیوں کہاکہ چار پاؤنڈ دو گے توکتے کا گوشت کھا جاوں گا گورا بڑا چاک ہوتا ہے۔

اس نے کہا کہ جناب میں نے آپ کی ذہانت دیکھنی تھی جو کتا آپ کے چار پانچ سو ریوڑ جانوروں کا محافظ تھا چار ٹکٹوں کی خاطر ذبح کردیا ایسے محافظ کا گوشت کھانا آپ کا حق نہیں بنتا ہے آج بلوچستان میں صوبائی وزراء سیکریڑی ودیگر آفیسرز سرکاری محکموں سے تنخوائیں لیتے ہیں بچوں کو اچھا خوراک تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہیں پھر بھی چروہائے جیسے سلوک کیا جا رہا ہے ایک طرف سے بلوچستان کا بیروزگار میرٹ کی پامالی کی وجہ سے مایوس ہے دوسری جانب سے جعلی لوکل سرٹیفکٹ کا اجرا نے بلوچستان کی بنیادیں ہلا رکھی ہے۔

فیڈرل پبلک سروس اور بلوچستان پبلک سروس کے امتحانات میں غیر صوبوں کے منتخب آفیسر بلوچستان کے آفیسرز سے اکیڈیمی میں پوچھتے ہیں کوئٹہ سبی مچ نصیرآباد خضدار حب یا اور یا کسی شہر کا نام لیتے ہیں جن سے جعلی لوکل سرثیفکٹ پر کامیاب ہوکر اکیڈیمی آتے ہیں یہ شہر چھوٹے یا بڑے شہر ہیں تو بلوچستان کی حقیقی لوکل آفیسر پریشان ہو جاتے ہیں پوچھتے ہیں آپ وہاں کے لوکل ہو پھر کیسے شہر کے چھوٹے بڑے ہونے کا پوچھتے ہیں وہ تنزیہ مسکرا کر کہتے کہتی ہیں ہمارے دادا نانا تایا چاچوں والد جب بلوچستان میں چیف سیکریڑی کمشنر ڈپٹی کمشنر تھے تو لوکل بنا کردی تھی کچھ وقت جعلی لوکل سرثیفکٹ کے خلاف بڑی تحریک چلی تھی۔

اچانک خاموشی ہو چکی ہے میری بلوچستان کے وزیراعلی بلوچستان ودیگر حکام بالا سے درخواست ہے خدا کے لیے سرکاری محکموں میں جاہل سفارش افراد بھرتی کرنے کے بجائے میرٹ پر قابل ضرورت مندوں بیروزگاروں کو بھرتی کیا جائے تاکہ بلوچستان کا بیروزگار بھرتیوں کی نوید سن کر سینہ چوڑا کرکے اس امید پر کاغذات جمع کرنے کیلیے فوٹو گرافر کی دکان پر مسکراتے چہرے سے فوٹو بنوائے کہ میرٹ پر یقینی بھرتی ہو گی والدین کے فوٹو اسٹیٹ بورڈ سے کاغذات کی تصدیق پر ہونے والا خرچہ میرٹ کے فروغ کے لیے استعمال ہو گا۔