سوراب:کسٹم اور ایکسائز کے ناکوں پر ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام کے بجائے تیل کے کاروبار سے وابستہ غریب ڈرائیوروں سے بھتہ وصولی عروج پر، سی پیک روٹ کے زریعے پنجگور سے ایرانی ڈیزل لانے والی گاڑیوں سے روزانہ مجموعی طور پر لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے، جبکہ ادائیگی نہ کرنے والے لاچار ڈرائیورز کی سرعام مارپیٹ سے بھی گریز نہیں کیا جاتا،
سوراب میں ایکسائز اینٹی نارکوٹکس اور کسٹم کے اہلکاروں کی کارکردگی محض بھتہ وصولی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جس سے ان دونوں اداروں کا وقار تیزی سے متاثر ہورہا ہے، جبکہ سوراب میں کئی مہینوں سے ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ روکنے کے خلاف ایک بھی کاروائی سامنے نہیں آئی ہے تیل بردار گاڑیوں سے وصول ہونے والے بھتے سے کئی بااثر افراد کو حصہ دینے کا بھی انکشاف، عوامی حلقوں کا وزیر اعلی بلوچستان سمیت منتخب عوامی نمائندوں سے سوراب میں قدم قدم پر قائم ناکوں پر غریب مزدوروں کو سرکاری اداروں کے نام پر لوٹنے سے نجات دلانے کا مطالبہ،
تفصیلات کے مطابق پنجگور سے تیل لانے والی گاڑیوں سے بھاری بھتہ وصولی سوراب میں کسٹم، ایکسائز اینٹی نارکوٹکس سمیت مختلف سرکاری اداروں کے لیئے سب سے منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جہاں روزانہ لاکھوں روپے کا غیر قانونی بھتہ غریب اور لاچار گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں سے وصول کیا جاتا ہے،اس سلسلے میں ضلع کے حدود میں جا بجا ناکے قائم کیئے گئے ہیں
جہاں دونوں اداروں کے باقاعدہ ملازمین کے ہمراہ عموماً سول افراد بھی کھڑے نظر آتے ہیں جن کا رویہ تیل لانے والے گاڑی ڈرائیورز کے ساتھ انتہائی تلخ اور نامناسب ہوتا ہے جو منہ مانگی بھتہ نہ ملنے کی صورت میں سڑک پر سرعام تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے مذکورہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ کسٹم اور ایکسائز کے چند مقامی آفیسران کیلالچ اور ہوس کے نتیجے میں ریاستی معزز اداروں کے وقار کو مجروح اور انہیں بدنام کرنے کا باعث بن رہی ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے