|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2020

مستونگ: نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر و سینیٹر میر کبیر جان محمدشہی نے کہا ہے کہ مزدور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک میں معیشت کی ترقی کا پہیہ ہی مزدور ہے مگر بدقسمتی اور نااتفاقی سے مزدوروں کا ہر دور میں استحصالی قوتوں نے استحصال کیامزدور جب تک آپس میں اتفاق و اتحاد قائم نہیں رکھیں گے اس وقت تک بالادست استحصالی قوتیں مزدوروں کا استحصال کرتے رہیں گے۔

موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں نے مزدور ملازمین کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا،ایک کروڑ نوکریوں کے دعوے کرنے والے سلیکٹڈ حکومت نے 21لاکھ مزدوروں کو نوکریوں سے نکال کر بے روزگار کردیا۔اس وقت ملک میں تمام مزدور غریب سمیت تمام طبقات انتہائی دکھ درد تکلیف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں موجودہ دور میں ہمیں خوشحال طبقہ نظر نہیں آرہا سوائے ان پانچ یا آٹھ فیصد کے۔

ملک کا پیسہ انکے تجوریوں میں ہیں۔انھوں کرپشن بے ایمانی دھوکہ اور مزدوروں کا خون چوس کر اپنے ترجوڑیوں میں جمع کیا ہیں بقایا 93فیصد عوام اس ملک میں انتہائی مفلسی لاچاری اور بدحالی کی زندگی گزار رہیہیں۔ان تمام طبقہ میں سب سے زیادہ پساہوا اور تکلیف میں مبتلا مزدور طبقہ ہیں مگر افسوس آج مزدور کو پتہ نہیں کہ انکی کیا مقام اور طاقت ہیاگر اس طبقے کو اپنے طاقت کا اندازہ ہوتا اور اپنا طاقت استعمال کرتے تو اس ملک کا حکمران طبقہ انکے حق و حقوق غصب کرنے کی جرت نہیں کرتا اور مزدوروں کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکستان ورکرزکنفیڈریشن ضلع مستونگ کے نومنتخب کابینہ کے تقریب حلف برداری کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انھوں نے نومنتخب صدرمیراحمدبلوچ اور اس کے کابینہ اراکین سے حلف لیا۔تقریب سے پاکستان ورکرزکنفیڈریشن کے صوبائی صدر ماما عبدالسلام بلوچ جنرل سیکرٹری علی بخش جمالی میراحمدبلوچ آغا نصیر شاہ خدائے رحیم محمدشہی متحدہ لیبرفیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری محمدزمان محمدشہی۔

نیشنل پارٹی کے ضلعی قائم مقام صدر حاجی نزیر احمدسرپرہ میرسکندرملازئی نثار مشوانی پیلپز پارٹی کے صدرقاسم علیزئی الیاس مسیح بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن ملک عبدالرحمن خواجہ خیل جہانگیرمنظور بلوچ،جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیرحافظ سعید الرحمن فاروقی بی ایس او پجار کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ سعیدلہڑی حاجی عبدالقادر سرمست بلوچ و دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انھوں نے کہاکہ اس ریاست کی آئین کے تحت اس ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کریں اور انہیں روگار فراہم کریں اور ملازمت کے دوران فوت ہونے والے ملازمین کے لواحقین اور سنزکوٹہ پر عمل کریں،انھوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صرف نو ہزار مزدور اسٹیل مل سے نکالے اور ریڈیو پاکستان سمیت دیگر مختلف اداروں سے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں 21لاکھ مزدور ملازمین کو نکال کر بے روزگار کرلیے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ جب تک آپ مزدور طبقہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں مزدوروں کے دردخور خیرخواہ اور ایماندار لوگوں کو منتخب کرکے نہیں بھیجیں گے مزدوروں کا اسی طرح استحصال کیاجاتارہیگا اور انکے حقوق پر استحصالی قوتیں ڈھاکہ ڈالتے رہیں گے،اور الیکشن میں لوگ ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں اور رات کو رزلٹ کسی اور کا آتا ہے کیونکہ لسٹ پہلے سے ہی بنی ہوتی ہیں لسٹ بنانے اور بیلٹ بکس بھرنے والے کوئی اور ہوئے ہیں۔

آج پی ڈی ایم بنانے کا مقصد کیاہے اور پی ڈی ایم کیاچاہتاہیکہ اس ریاست کے آئین پر من عن عمل درآمد ہو پاکستان کے سیاست میں عوام کے بغیر کوئی اور فیصلہ نہ کرسکے جس کو عوام اپنا نمائندہ منتخب ہو اسے اسمبلیوں میں پہنچے۔