|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2020

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر)فضیل اصغر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک خطرناک وباء ہے اور اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے اس کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرسکتے جبکہ صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے ہنگامی طور پر اقدامات اٹھائے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں کورونا وائرس کی روک تھام کی سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن اسفندیار خان، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ قادر بخش پرکانی، ڈویژنل کمشنرز بذریعہ وڈیو لنک،بی سی او سی کی ٹیم اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ کوئٹہ سمیت 24 اضلاع سے کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ صوبے کے دیگر باقی 9 اضلاع سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہو رہا ہے۔جس کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں ڈویژنل کمشنرز کو سختی سے ہدایت کی کہ جن جن اضلاع سے کورونا وائرس رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں وہاں کے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں سے رینڈم نمونے لے جائیں کہ آیا وہ کورونا فری اضلاع ہیں یا کیسز کسی وجہ سے رپورٹ نہیں ہو پا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ شاپنگ مالز، پبلک مقامات اور مساجد میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔

جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے شاپنگ مالز، دکانوں اور ہوٹلوں کو سیل کر دیا جائے اور اس سلسلے میں شہریوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ حکومت کے ساتھ کورونا وائرس کی روک تھام میں تعاون کریں۔ انہوں نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ علماء کے ساتھ مل بیٹھ کے ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے کہ مساجد میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بن سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی کورونا اینٹی جینز اور دیگر ضروری آلات کی خریداری کا عمل مزید تیز کیا جائے۔

تاہم انہوں نے کو رونا وائرس کی حوالے سے ہسپتالوں میں تیاری پر اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کا عملہ وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں بہترین کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں آچکا ہے۔

وہاں آکسیجن سیمت دیگر ضروری آلات کی دستیابی بھی ممکن بنائی جائے اور جن اضلاع میں کورنا ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اس پر کام مزید تیز کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اس کی روک تھام یقینی بنانے کے یے ہر ہفتے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔