|

وقتِ اشاعت :   December 23 – 2020

ٹنڈوالہیار: سندھ ترقی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین الطاف جسکانی کے قتل میں اہم پیشرفت،گرفتارملزم ضمیر رند نے قتل کا اعتراف کرلیا،پولیس کے سامنے اہم انکشاف،اسلم رند بھولو خانزادہ کے ساتھ مل کر الطاف جسکانی کو گولیاں ماریں ۔

ضمیررند تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل ٹنڈوالہیار میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین الطاف جسکانی کو قتل کردیا گیا تھا ،اور قتل کیس میں اسلم رند،بھولو،خانزادہ،ضمیررند،شاہ نواز رند اور دیگر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا تھا بعد ازاں ایف آئی آر میں نامزد ملزم ضمیر رند نے گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں اس نے الطاف جسکانی قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

اور ذرائع کے مطابق کسی بااثر شخص کی یقین دہانی پر ضمیر رند نے خود کو پولیس کے سامنے پیش کیا تھا،جب کہ الطاف جسکانی قتل کیس میں مفرور اہم ملزم اسلم رند نے بھی ایک ویڈیو بیان میں الطاف جسکانی قتل کیس سے لاتعلقی ظاہر کی تھی ،جب کہ مذکورہ کیس کے اہم ملزم بھولو خانزادہ بھی گزشتہ دنوں اسی کیس میں عبوری ضمانت کرا چکے ہیں لیکن ضمیر رند کے اعتراف جرم نے الطاف جسکانی قتل کیس میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

اور گرفتار ملزم ضمیر رند نے دوران تفتیش پولیس کے سامنے اقرار جرم کر لیا ہے اور کہاہے اسلم رند کے گھر پر بھولو خانزادہ،شاہنواز رند علی احمد اور عارف کے ساتھ مل کر میں نے قتل کی پلاننگ کی اور اسلم رند اور بھولو خانزادہ،کے ساتھ مل کر الطاف جسکانی پر گولیاں چلائیں جب کہ پولیس کی جانب سے 3ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ آلہ قتل پسٹل بھی برآمد کر لیاہے۔

جب کہ اس اہم کیس میں سی آئی اے پولیس کے تفتیشی آفیسر اسلم لانگاہ کے مطابق ضمیر اور عارف نے اقرار جرم کر لیا ہے جب کہ الطاف جسکانی قتل میں جاسوسی کرنے کے اقرار پر عارف نامی شخص پر مزید ایک اور کیس داخل کر لیا گیا ہے،اور ضمیر رند کے اعتراف جرم کے بعد یہ کیس اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔