تہران: ایران کی ایک انقلاب عدالت کے حکم پر ایک بلوچ سماجی کارکن کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلوچ کارکن کی پھانسی کو ایرانی رجیم کی ظالمانہ سزائوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے۔
اس کی مذمت کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام نے بلوچ کارکن عبدالحمید میربلوچ زئی کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے موت کی نیند سلا دیا۔ اس پر پانچ سال قبل پاسداران انقلاب کے ساتھ جھڑپ میں ایرانی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ میر بلوچ زئی ایرانی وکیل مصطفی نیلی نے اپنے موکل کی ممکنہ پھانسی کے بارے میں اپنی تشویش کا اعلان کرتے ہوئے۔
فیصلے کی معطلی اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر اس کے مطالبے کو رد کر دیا گیا۔عبدالحمید بلوچ پر کئی دیگر لوگوں کے ساتھ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔
اور ابتدائی طور پر اسے 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں عدالت نے اس سزا کو موت کی سزا میں تبدیل کر دیا تھا۔مدعا علیہان کا کہنا تھا کہ انہیں ایرانی انٹلی جنس حراستی مراکز میں تحقیقات کے دوران جبری اعتراف جرم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔