اسلام آباد: ایوان بالا کی تفو یض کردہ قانون سازی کی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں وزارت قومی تحفظ خوراک وتحقیق اور اس کے ماتحت اداروں میں اعلی آسامیوں پر تعیناتی کیلئے مرتب کیے گئے قواعد وضوابط کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔
سیکرٹری وزارت قومی تحفظ خوراک وتحقیق غفران میمن نے کمیٹی کو تعیناتیوں کے حوالے سے میکنزم پر تفصیلی بریف کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف محکموں میں قانون کے مطابق رولز نہیں بنائے جا سکے جس کی وجہ سے مختلف اداروں کے سربراہان کی تقرری بھی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ وزریر اعظم پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے جن کے سربراہان نہیں ہیں۔
وہ جلد سے جلد تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قومی تحفظ خوراک وتحقیق کے15 ماتحت ادرے ہیں ان میں سے کچھ کے سربراہان نہیں ہیں جس کی بنیادی وجہ کہ وہ پروموشنل آسامیاں ہیں مگر مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے سربراہان کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ا نہوں نے کہا کہ قومی ویٹرنری لیب کے ڈی جی کیلئے تعلیمی قابلیت پی ایچ ڈی ہے۔
مگر مطوبہ تعلیمی قابلیت کا افسر نہ ہونے کی وجہ سے یہ سیٹ خالی پڑی ہے اور اسں سے نچلے گریڈ کا ایک افسر2004 سے پروموشن حاصل نہیں کر سکا کیونکہ اس کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں ہے حالانکہ وہ انتہائی تجربہ کار افسر ہے جو ملک وقوم کیلئے بہتر خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔وزیراعظم پاکستان نے تمام اداروں کو ہدایت کہ ہے کہ تین ماہ کے اندر اپنے سربراہان کی تقرری عمل میں لائیں اور اس حوالے سے رولز تبدیل کیے جارہے ہیں۔
جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ مختلف اداروں کے تعیناتی کے حوالے سے رولز مختلف ہیں ان کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اگر ابھی ان کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو کب اور کون کرے گا۔ رولز کو تبدیل کر کے لوگوں کو ان کا حق دیا جائے۔انہوں نے کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا کہ حکومت کے ساتھ مل کر ایک بل متعارف کرایا جائے گا کہ رولز اور قواعد وضوابط بنانے کیلئے کیا کیا ضرورت ہے۔
اور ایک میکنزم لایا جائے گا جس کے ذریعے قانون کے مطابق تمام محکمے 6 ماہ کے اندر رولز بنانے کے پابند کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ محکمے رولز ریگولیشن بنا کر پبلک کریں تاکہ عوام اور سرکاری ملازمین تک ان کی رسائی ہو۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ ایران کا بارڈر صوبہ بلوچستان کے قریب ترین ہے مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ ایرانی پھل، فروٹ و دیگر اشیادیگر ممالک کے ذریعے گھوم گھما کر آتی ہیں۔
جس کی وجہ سے ان کے ریٹ بھی بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان نے مہنگائی کو کم کرنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہیں اس لئے بہتر ہے کہ تمام ڈی سیز اور اے سیز کو قیمتوں کو کنڑول کرنے کیلئے متحرک کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان سٹینڈر کوالٹی کنڑول اتھارٹی کو وزارت کامرس، سائنس ٹیکنالوجی و دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس سے موثر کام لیا جائے۔
تاکہ لوگوں کو مضر صحت اشیا سے بچایا جا سکے۔سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ بے شمار اداروں میں قوانین تو موجود ہیں مگر ان کے مطابق رولز نہیں بنائے گے ایسا طریقہ کار بنایا جائے کہ تمام ادارے متعلقہ رولز بنا کر ملک و قوم کی خدمت میں شامل ہوں۔سینیٹ کمیٹی برائے تفویض کردہ قانون سازی نے ہدایت دی کہ وہ سرکاری محکمے جہاں اعلی آسامیاں خالی ہوں اور متعلقہ تعلیمی قابلیت کے افسران نہ ہو تو وہ ادارے دوسرے محکموں سے افسران لے کر ان آسامیوں کو پر کریں۔