|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2021

چند روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک دھائی سے بلوچستان کو سالانہ چار سو ارب ملتے ہیں، اسے پڑھتے ہی یادداشت پر زور دیتا رہا کہ ایسا کونسا سال تھا جب بلوچستان کو چار سو ارب روپے ملے ہوں ؟کچھ گھریلو مصروفیات میں ایسا الجھا تھا کہ نہ تو کوئی ریکارڈ دیکھ سکا نہ کوئی جواب وزیر موصوف کو ٹویٹ کرپا یا۔ بھلا ہو ہمارے صوبے کے سابق سینئر بیوروکریٹ معاشی ماہر محفوظ علی خان کا جو جب آن ڈیوٹی تھے تب بھی اور جب اب ریٹائرڈ ہیں تب بھی صوبے کے معاشی مفادات پر ہر فورم پر آواز بلند کرنا فرض سمجھتے ہیں ۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر وزیر موصوف کو بتایا کہ ایک سو بیس ارب دس سال قبل کا کل بجٹ ہوتا تھا یہاں تک کہ اس بار کا کل بجٹ چار سو لگ بھگ کے ضرور ہے لیکن ایسا صرف اس سال ہوا ہے اس قبل کبھی بھی نہیں ہوا ۔محفوظ صاحب نے اپنی وضاحت کرکے ہمارے شکوک پر مہر ثبت کردی کہ وفاقی وزیر کے اعداد و شمار میں گڑبڑ ہے لیکن چونکہ پاکستان تحریک انصاف کے وزیر ہیں تو چلیں کوئی بات نہیں لیکن فواد چوہدری کا ٹویٹ میرے لئے بہت سے معنی رکھتا تھا کیونکہ میں ان افراد میں شامل ہوں جو یہ مانتے ہیں کہ ساتویں این ایف سی سے قبل بلوچستان کے معاشی حالات یا وفاق سے ملنے والی رقم یا اپنے محاصل اتنے بھی نہ ہوتے تھے۔

کہ بلوچستان حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے پاتی لیکن ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد بلوچستان کو جتنی رقم صوبے کی تاریخ میں نہیں ملی تھی اتنی رقم ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد ملی اور اس فنڈ کا جو حشر نشر ہماری سابقہ حکومتوں نے کیا اسکے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور سے پیسوں کی فراوانی شروع ہوئی تو ایسے ہی جاری رہی جب تک نیب نے وہ پیسے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی گھر کی ٹینکیوں سے نہ نکالے اور بلوچستان کا مشہور زمانہ کرپشن اسکینڈل سامنے آیا جسکے نتیجے میںاس وقت کے مشیر خزانہ خالد لانگو اور انکے محکمے کے سیکریٹری مشتاق رئیسانی گرفتار ہوئے۔

تاہم اب دونوں میری طرح آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ چند روز قبل مشتاق رئیسانی کے گاڑی دیکھ کر مجھے اپنی چھوٹی سے گاڑی بھی بری لگنے لگ گئی تھی اب وہ ملزم ہیں یا مجرم اسکا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اور فیصلے سے قبل اس پر مزید رائے دینا درست نہیں ہے لیکن میں فواد چوہدری کے اعداد و شمار سے تو اختلاف رکھ سکتا ہوں لیکن بات انہوں نے وزن دار کی ہے۔ بلوچستان کے بجٹ کو ہمیشہ منتخب نمائندوں نے سیاسی رشوت اور بینک بیلنس بنانے کیلئے ہی استعمال کیا ہے ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا اور ایسا کئی واقعات میں ہم نے دیکھا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن یونس ملازئی دو ہزارآٹھ میں رکن اسمبلی بنے حلف لینے رکشے میں پہنچے اور آخری دن ٹویوٹا لینڈ کروزر میں گئے اس تحریر کا پلاٹ سوچتے ہوئے کراچی سے روانہ ہوا تو کیا تبدیلی دیکھی حب کے داخلی راستے سے لیکر ضلع لسبیلہ کے حدود تک ہر طرف وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال کی تصاویر نصب تھیں اب تو انکے ساتھ لسبیلہ کے والی ریاست جام محمد کی بھی تصاویر نظر آرہی تھیں ویسے ہماری لسبیلہ کی عوام بڑی استاد ہے دس سے پندرہ سال تک یہاں بھوتانی برادران کی تصاویر لگی ہوتی تھیں آج وہاں جام کمال کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔

اور جب تک یہ حکومت ہے تب تک یہاں جام کمال ہی کی تصاویر نظر آئینگی اور اگر پھر کوئی موقع بھوتانی برادران کو ملا تو تصاویر تبدیل ورنہ تو نہیں۔ لسبیلہ کی پینافلیکس سیاست سے گزرتے ہوئے ایک نئی چیز دیکھتا ہوا چلتا رہا ہرطرف سولر پینلز کے ساتھ ٹویب ویلز لگئے ہوئے تھے اور یہ سلسلہ کوئٹہ تک پھیلا ہوا تھا یہاں تک کہ وڈھ اور خضدار میں کچھ علاقے ایسے بھی تھے کہ ایک کلومیٹر کے علاقے میں دس یا گیارہ بور میں نے گاڑی روک کر گنتی کئے ۔اس وقت یاد آیا جب نواب ثناء اللہ زہری، ڈاکٹر مالک کی کابینہ کے وزیر تھے۔

تو سولر ٹیوب ویلز کے خلاف تھے لیکن جب مری معائدے کے تحت وزیر اعلٰی بنے تو اپنے حلقے سے آنے والے ہر ملاقاتی کو ایک سولر ٹیوب ویل ضرور دیتے۔ ایک دن انہیں میں نے کہا چند سال قبل تو آپ اس سولر ٹیوب ویل کی اسکیم کیخلاف تھے اب ایسے بانٹ رہے ہیں جیسے سوغات بانٹ رہے ہوں ۔مسکرا کر بولے کیا کریں ووٹرز سپورٹرز کو بھی تو خوش رکھنا ہوتا ہے۔ پہلے ہمارے منتخب نمائندے روڈ نالی کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرتے تھے اور آج کل اس میں سولر ٹیوب ویل کا اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ ایسے بھی منتخب نمائندے موجود ہونگے۔

جنہوں نے گھر اور ذاتی زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے عوامی پیسے سے ٹیوب ویل نصب کروائے ہیں۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اب بارانی علاقوں کیلئے سولر ٹیوب ویلز کی کسی علاقے میں تنصیب کیلئے کوئی پالیسی ترتیب دے کہ کتنے کلو میٹر کے علاقے میں کتنے ٹیوب ویل ہونگے اور انہیں کتنے گھنٹے چلایا جائیگا بصورت دیگر سولر پر چلنے والے یہ ٹیوب ویل چند سالوں تک بلا روک ٹوک چوبیس گھنٹے پانی دینگے لیکن ایسا نہ ہوا کہ ایک وقت آئے جب ان علاقوں میں طویل عرصے اگر بارشیں نہ ہوں تو خشک سالی ہوجائیگی۔

اسلئے موجودہ حکومت کو چاہئے کہ آئندہ بجٹ میں انفرادی اور سیاسی رشوت کی اسکیمات جیسا کہ روڈ نالی اور سولر پینلز کی اسکیمات پر بڑے میگا پراجیکٹس کو ہدف بنائے تاکہ جب وہ و اپس عوام کی طرف جائیں تو انکے پاس اپنے فلیگ شپ پراجیکٹس ضرور ہوں ورنہ انکی حکومت بھی ماضی کی حکومت سے مختلف نہیں ہوگی اور پھر بلوچستان کو چار سو ارب کا طعنہ کوئی وفاقی وزیر پھر دیگا۔ اسلئے اب موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ روڈ نالی اور سولر ٹیوب ویل کی سیاسی رشوت کا خاتمہ کریں بصورت دیگر فواد چوہدری غلط ہندسوں کے ساتھ ہم پر تبرہ مارینگے کہ بلوچستان سالانہ چار سو ارب کھاجاتا ہے ۔

جام کمال اس وقت ایک ایسے ڈیفائننگ موومنٹ پر ہیں کہ انہیں چاہئے کہ انفرادی اسکیمات کے بجائے بڑے فلیگ شپ پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کریں تو چرواہے کا بلوچستان بدلے گا بھی اور ترقی بھی کریگا جو پالیسی انہوں نے افسران کی تعیناتی میں اپنا ئی ہے ایسی ہی پالیسی بجٹ کی تشکیل اور اس پرعمل در آمد کیلئے ناگزیر ہے ۔