کوئٹہ: امیر جما عت اسلامی پا کستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مچھ میں غریبوں ، لا چا روں اور بے کسوں پر نہیں بلکہ 22کروڑ پا کستانیوںپر حملہ کیا گیا، ایک بے گناہ انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مترادف ہیں۔
عمران کے ٹویٹر پیغاما ت اور یہاں نہ آنا متکبرانہ رویہ کے سوا کچھ نہیں ،اسلام آباد کے حکمرانوں کے غرور اور عنانیت کی وجہ سے ملک کی اسلامی اور بین الاقومی سطح پر بد نا می ہو رہی ہے ۔ وزیر اعظم کو کرکٹ بورڈ کا ڈائریکٹر ہونا چاہیے تھا وزیراعظم بن کر 22کروڑ عوام کے ہاتھ کیا گیاہے ، 22کھلاڑیوں کو سنبھالنا اور 22کروڑ عوام کو سنبھالنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے کو ئٹہ میں جا ری دھر نے سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ متاثرین کی آنکھوں میں آنسو ہیں ہم بھی اسی با ت کورو رہے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلامی اور جمہوری ملک میں یہ بربریت اور وحشت کیوں ہورہاہے پاکستان کے بارے میںقائد اعظم نے فرمایا تھاکہ یہ دنیا کے لئے اسلام کا ایک تجربہ گاہ اور دنیا کے لئے ماڈل ہوگا ۔
جہاں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے حقوق محفوظ ہوں گے بلکہ یہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا عدل و انصاف کی حکمرانی ہوگی لیکن 73سال بعد بھی ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے 10بھائی بے دردی سے شہید کئے گئے ہیںجو ایک مظلومیت کی داستان ہے اور اس سے بڑھ کر ظلم ، وحشت اور بربریت یہ ہے کہ یہاں لاشیں بغیر روح کی موجود ہیں جبکہ کچھ لاشیں اسلام آبادمیں ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ جو اپنے آپ کو حکمران کہتے اور سمجھتے ہیں وہ مظلوم کی آہ و بکا و اور فریاد نہیں سن رہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں جمعیت اسلامی پاکستان کی کارکنوں اور قوم کی جانب سے آپ کے غم میں و درد میں شریک ہوں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کا اجلاس لاہور میں 3دن جاری تھا اور طویل بحث کے بعد ہم نے ان شہداء کے حوالے سے قرارداد منظور کی اور اس بات کا اعلان کیا کہ کوئی ایک برادری کوئٹہ یا پھر بلوچستان میں ان شہداء کی وارث نہیں ہے۔
بلکہ 22کروڑ عوام ان کے وارثین ہیں مچھ میں 10 معصوم افراد کا نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کو زبح کیا گیاہے یہ غریبوں ، بے کس اور لاچاروں پر حملہ نہیں بلکہ ہم اسے 22کروڑ عوام پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے وفاقی وزراء کہتے ہیںکہ کسی مقتول کا قاتل گرفتار نہ ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت اس کا قاتل ہے آج صوبائی دارالحکومت میںیہ 10لاشیں موجود ہیں۔
لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہو رہے انہوں نے دھر نا کے شرکا ء کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا کہ آپ کا مطالبہ ہے کہ ہماری بات سننے کے لئے وزیراعظم کوئٹہ آئے مگر غرور و تکبر کا پہاڑ اتنے دن گزرنے کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے اور ٹویٹر پر پیغامات دیتے ہیںکہ آپ اپنے مقتولین کو دفنادیں تو پھر اسلام آباد کا شہزادہ کسی وقت اچانک تشریف لائے گا ۔
اسلام آباد کے حکمرانوں اور عمران خان سے کہتاہوں کہ تمہاری تکبر ، غرور اور عنانیت کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے آج ان شہداء کی لاشیں اور ان کی تصویریں میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو پہنچ رہی ہے جو نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہے بلکہ حکومت کے اس تکبر کی وجہ سے پوری امت اسلامیہ کی بدنامی ہورہی ہے آج یورپ ، امریکہ ، برطانیہ ، جاپان میں لوگ ہر مسلمان کو طعنہ دے رہے ہیں ۔
شیعہ ہو یا سنی ہو اس کو طعنہ مل رہاہے کہ تمہاری مذہب ، دین ، جمہوریت ، آئینی اور انسانیت یہی کہتی ہے کہ کئی دنوں سے لاشیں موجود ہیں اور تمہارے ساتھ ان کے دفنانے کی فکر بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو ان کے مطالبے کے بغیر پہلے ہی دن یہاں حاضر ہونا چاہیے تھا اتنے بڑے سانحہ کے بعد کابینہ کا اجلاس اسلام آبادکی بجائے کوئٹہ میں کرنا چاہیے تاکہ ہزارہ برادری اور بلوچستان کی عوام کو یہ پیغام ملتا کہ حکومت ان کی پشت پر موجود ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اسلام آباد بے ضمیر حکمرانوں کا قبرستان ہیں جہاں گونگے ، بہرے حکمران موجود ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک بے گناہ انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ، حضرت علیؓ نے فرمایاکہ کفر کے ساتھ تو معاشرہ چل سکتا ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں ۔ ہمارے نبی ؐ نے فرمایا جس نے جان کر ظلم کا ساتھ دیا میری امت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
یہاں وفاقی حکومت نے جو رویہ اختیار کیاہے یہ دہشت گردوں کو حوصلہ دیتا ہے پاکستان کو ایک آندھا کنواں بنادیا گیاہے جہاں اندھیرنگری چوپٹ راج ہے جس کے ہاتھ میں بندوق اس کی حکومت اور جس کے پاس پیسہ اس کا دبدبہ ہے میںایسے نظام کو چوپٹ راج سمجھتا ہوں ۔ میں یہاں پہنچا تو درجہ حرارت منفی 8تھا اس عالم میں فجر کے وقت لوگ اپنے لاشوں کے ساتھ موجود تھے مگر پتھر دل رکھنے والوں حکمرانوں کو ان پر ترس نہیں آتا ۔
آج ملک کے حکمران اپنے بھائیوں اور انسانیت کی خاطر ایک گھنٹے کا سفر نہیں کرسکتا ، نواز شریف کے دور حکومت میں جب کوئٹہ میں اس طرح کے واقعہ رونما ہوا تو نواز شریف کسی اور شہر چلے گئے تھے تو عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف ظالم حکمران ہے آج ہم پوچھنا چاہتے ہیںکہ کیا عمران خان ظالم نہیں ہے ؟اور کہتے ہیں کہ ساری عمر برطانیہ میں گزاری ہے کیا برطانیہ میں اس طرح حکومت کی جاتی ہے ۔آپ کو کرکٹ بورڈ کا ڈائریکٹر ہونا چاہیے تھا ۔