|

وقتِ اشاعت :   February 4 – 2021

اسلام آباد: ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویڑن، ایس این جی پی ایل،ایس ایس جی سی ایل، ایم او ایل، او جی ڈی سی ایل، ایم پی سی ایل، اوگرا، پی ایم ڈی سی اور فنانس ڈویڑن،20 اگست 2020، 2 نومبر 2020 اور 8 جنوری 2021 کو منعقدہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں دی گئی۔

ہدایات پر عملدرآمد کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سردی کی شدت کی وجہ سے صوبہ کے لیئے خصوصی ٹیرف بنانے پر بریفنگ لی جس پر وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ اوگرا نے 29 جنوری کو سمری وزارت کو بھیجی ھے جس پر کاروائی کی جائے گی۔

اور کمیٹی کو رپورٹ پیش کر دی جایئگی۔ GM SSGCL نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نے وزارت کو ایک تجویز جمع کروائی ھے جس کے تحت ماہانہ فکس بل لیا جائے گا اور 3600 ایم ایم گیس دی جائے گی۔ کمیٹی نے اس پر سفارش دی کہ غربت کی وجہ سے 3000 ماہانہ بھی زیادہ ھے لیکن اس سے زیادہ ہرگز نہ ہو۔ فنکشنل کمیٹی کی میٹنگ میں LPG AIR MIX پلانٹ کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی نے گیس پائپ لائن کی تجویز پیش کی تھی۔

جس پر وزارت نے ہی ایل پی جی ایئر مکس پلانٹ کا پروگرام کو متعارف کروایا لیکن اب کہتے ہیں کہ یہ مہنگا پڑ رہا ھے۔ او اس کی قیمت فیزیبل نہیں ھے۔ جس پر وزیر نے کہا کہ ہم ایک نیا سسٹم متعارف کروا رہے ہیں کمیٹی نے سفارش دی کہ اس پروگرام کو اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے مول کمپنی سے نکالے گئے تین غریب ملازمین کے حوالے سے کمپنی کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جس پر عمر ایوب نے کہا کمپنی ان علاقوں سے اربوں کما رہی ھے ان تین لوگوں کو ملازمتیں دینے سے کمپنی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لہذا کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان کو واپس ملازمتوں پر بحال کیا جائے۔ کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے مول گیس کمپنی کے حکام کو ہدایت دی کہ ملازمین کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو فوری حل کیا جائے۔

کوئٹہ میں گیس پریشر اور لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ SSGCL نے نوا کلی سمیت کئی علاقوں میں نئی پائپ لائنز بچھانے کے منطور شدہ منصوبوں پر کام شروع کر دیا ھے جس پر کمیٹی نے سفارش دی کہ اس کو اگست 2020 تک مکمل کیا جائے۔ موسی خیل، بولان، دکی، اوچھ،کچھی، ہرنائی، زیارت اور بوستان میں تیل و گیس کی ایکسپلوریشن اور ڈریلنگ کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کی جائیں۔

شیرانی میں تیل کی سیپیج کے حوالے سے کمیٹی چیئرمین سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے ہدایت دی کہ ان علاقوں سمیت کاکڑ خراسان اور دیگر علاقوں کا وزٹ کیا جائے اور ایکسپلوریشن کے لیئے اقدامات کیے جاہیں۔کمیٹی نے متفقہ سفارش پیش کی کہ تمام آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے فلاحی کاموں کی کمیٹیوں میں علاقے کے سینیٹرز کو بھی شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ کمیٹی نے سفارش پیش کی کہ لیز ایگریمنٹ میں شخصی فائدے کے بجائے عوامی مفاد کو مد نظر رکھا جائے۔

اور علاقے کے معتبرین کو بھی مدعو کیا جائے۔آئل اینڈ گیس کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین جن کا تعلق بلوچستان سے ہے ان تمام کے ڈومیسائل کی دوبارہ ویریفیکیشن کر کے رپورٹ کمیٹی کو بھجوائی جائے اور ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تفصیلات دی جائے۔ پی ایم ڈی سی کی کوئلہ کی پروڈکشن کی تفصیل پر سینیٹر سردارشفیق ترین نے کہا کہ اتنی کم پروڈکشن کی وجہ چوری ہے۔

جس سے ملک کو سالانہ اربوں روپوں کا نقصان ہورہا ہے۔ پی ایم ڈی سی بلوچستان میں کام کرنے والے ملازمین کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ بلوچستان کے ملازمین کا سکیل باقی صوبوں کے مقابلے میں کم ہے کمیٹی نے سفارش دی کہ پورے ملک میں یکساں سکیل رکھا جائے اور پروموشن کے کیسز کو حل کیا جائے۔ پی ایم ڈی سی کی کانوں میں کام کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو جلد از جلد معاوضہ ادا کیا جائے۔ کمیٹی کی سفارش پر وزارت پیٹرولیم نے 13+2 انجینیرز کی پروموشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

اور ایک لائزن افیسر کو بھی جلد از جلد ریگولرائز کر کے پروموٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ آئل اینڈ گیس کمپنیوں کی طرف سے سہولیات کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرک، ہنگو و دیگر علاقوں سے گیس پیدا ہو رہی اور مقامی لوگوں کو گیس کی سہولت میسر نہیں ہے۔

اور گیس فراہم کرنے والے علاقوں میں 70 فیصد عوام بے روزگار ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کاغذوں پر مشتمل پلان لا کر کمیٹی میں دکھا دیا جاتا اور زمین پر حقائق زیرو ہیں۔عوامی وسائل کو استعمال کر کے لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے افسران نے عوام کو سہولیات سے محروم کر رکھا ہے۔