|

وقتِ اشاعت :   February 20 – 2021

کراچی: بلوچ متحدہ محاذ نے اسلام آباد ڈی چوک پر دھرنے میں بیٹھے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین پر پولیس تشدد اور انھیں حراساں کرنے جیسے غیر انسانی سلوک کو نہایت شرمناک قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی ہے ۔

اپنے جاری کردہ ایک بیان میں متحدہ محاذ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد پولیس کو لگام دے بلوچ مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے کئی دن کی مسافت طے کرکے اسلام آباد اس لئے پہنچے ہیں کہ وہ مدینہ ریاست کے وزیراعظم سے ملاقات کرکے اپنی فریاد ان تک پہنچائیں۔

ڈی چوک اسلام آباد تک پہنچنے کے لئیے انھیں تکلیفیں اٹھانی پڑیں ان مائوں بہنوں کی جرات کو سلام ہے کہ وہ خون جمادینے والی سردی اور نہ مصائب حالات میں کئی دنوں سے دھرنے میں بیٹھے ہیں ایک طرف وفاقی وزراء کبھی دھرنے میں خود آکر اور کبھی ان لواحقین کو بلا کر ان سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے ماتحت پولیس دھرنے میں شامل مردوں کو اٹھاکر لے جاتے ہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔

اور دھمکاتے ہیں کہ دھرنا ختم کرو نہیں تو سب کو حراست میں لیا جائے گا اسی طرح رات کے اوقات دھرنے میں آکر خواتین کو حراساں کیا جاتا ہے تاکہ وہ دھرنا ختم کریں۔ متحدہ محاذ نے وفاقی حکومت کی اس دوغلی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین کے ساتھ اسلام آباد کا یہ رویہ بلوچستان کے معاملے کو مزید پیچیدہ کردے گا ۔

بلوچستان کے مسئلے کو بندوق اور طاقت کے بل پوتے پر حل کرنے جیسے حاکمانہ طریقے نے ہمیشہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان دوریاں پیدا کی ہیں بلوچ مائوں بہنوں پر دست شفقت رکھنے کے بجھائے انھیں حراساں کرنے کا عمل صوبے اور وفاق کے درمیان جاری تنائو میں مزید اضافہ ہوگا۔

بلوچ متحدہ محاذ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین جو اس وقت اسلام آباد ڈی چوک پر دھرنے میں بیٹھے ان سے ملاقات کریں اور ان کے پیاروں کی بازیابی کی یقین دہانی کرائیں کیوں کہ جب تک لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اس وقت تک بلوچستان کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوسکتا۔