|

وقتِ اشاعت :   February 26 – 2021

مافیا کا لفظ یوں تو کئی بار پڑھا ہے لیکن اِس لفظ کی ہیئت اور اِس کے پیچھے کس طرح کی ذہنیت کارفرما رہتی ہے اِس سے اتنی واقفیت نہیں تھی ۔پہلے خیال یہی تھا کہ مافیا اْن لوگوں کا ایک جتھا ہوگا جو علم اور شعور سے عاری ہونگے اْنکے پاس علمی لیاقت اور مشاہدے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اور وہ انسانی احساسات سے یکسر بے بہرہ ہونگے لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھتا چلا گیا تب جاکر یہ سمجھ آیا کہ مافیاتو در اصل پڑھے لکھے اور شعور کی مصنوعی عینک لگائے لوگوں کے اْس گروہ کوبھی کہا جاتا ہے جو اپنے قبیل کے علاوہ کسی بھی دوسری شعوری منطق کو قبول نہیں کرتے یہ ہر اْس چیز کو اپنی بقاء کا کلائمکس سمجھ کر کْشت وخون پربھی اْتر آتے ہیں ۔

جن سے اِن کو خوف محسوس ہوتا ہے،اپنے بقاء کے دوام کی خاطر یہ قاتل، اغواکاراورجرائم کی دنیا کے آلہ کاروں کو بھی اپنے گھروں میں پناہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ایسے مافیا کو اگر Mafia Survival Personal کہا جائے توبے اِشتباہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ ڈرگ مافیا اور لینڈ مافیا دو ایسی اصطلاحات ہیں جوعموما ًسننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں عزت دار اور شریف طبقہ اِن دونوں مافیا سے ہروقت ڈرا ڈرا اور سہما سہما رہتاہے کیونکہ یہ دونوں مافیا کسی بھی وقت کہیں بھی کسی بھی شریف اورعزت دار شخص کو بے عزت اور کم شرف کرنے سے نہیں ہچکچاتے،اپنے خلاف اْٹھنے والی آوازوں کو دبانے اورانہیں۔

خاموش کرانے کے لئے ڈرانے دھمکانے اور قاتلانہ حملوں سے بھی گریز نہیں کرتے،لیکن دوسری جانب اب یہ بات ابھی مشاہدے میں آئی ہے کہ اِن دونوں مافیا سے زیادہ خطرناک ترین مافیا Mafia Survival Personal ہے یہ وہ مافیا ہے جو صرف اپنی ذاتی بقاء کے لئے لڑتی ہے یوں تو بظاہر یہ مختلف خیالات اور نظریہ کا پیروکار دکھائی دیتی ہے قوم پرستی کے بڑے بڑے دعوے کرتی نظر آتی ہے لیکن جب بات ذاتی اور ذاتی بقاء کی آتی ہے تو یہ باقاعدہ مافیا کا روپ دھار لیتی ہے پھر اس کے سامنے ملک، زمین، قوم اور مذہب کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں رہتی۔

آپ دنیا کی تاریخ اْٹھا کر دیکھ لیں Mafia Survival Personal نے ہروقت’’سرکاری گْماشتہ‘‘کا کردارادا کیا ہے افریقہ اور شام اور ادلب میں ہونے والے فسادات بھی قومی بقاء سے زیادہ ذاتی اور قبائلی بقاء کو زندہ رکھنے اور اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خاطر رونما ہوئے ہیں افغانستان کے اسلامی جنگ کی ناکامی میں بھی اسلامی وحدت سے زیادہ قبائلی اور ذاتی بقاء کے تحفظ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔بلوچ قومی بقاء اور Survival Baloch کی باتیں کافی سنی ہیں قوم پرست پارٹیاں بھی اپنی مجالس میں بلوچ قومی بقاء کی باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن اس بقاء کو قائم رکھنے کے لئے ہمہ وقت جن قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

وہ جراثیم کہیں اسلامی اسپرے تو کہیں کاروباری اور Survival Personalکی بھینٹ چڑھ چکی ہیں،80اور85کی دہائی میں سرحدوں کو آزاد کرانے کے لئے بارڈر پار کرنے والوں نے سْرخ اور سفیدفارسی افغانیوں کے ساتھ جو رویہ روا رکھا،(چند ایک کو چھوڑ کر)وہ ابھی بھی افغانیوں کے دل اور ذہنوں پر نقش ہیں ،بلوچ تحریک پر خاص نظر رکھنے والے ایک بزرگ رائٹرکے مطابق یہ اپنے منہ پر کالک مل کر واپس بھاگ آئے۔اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو بہت سوں کو وہاں بھی بلوچ بقاء سے زیادہ Survival Personal کا مسئلہ درپیش تھا یعنی ذاتی بقاء کے سامنے قومی بقاء کبھی بھی مقدم نہیں رہا ہے۔

دیار غیر میں کون کیا کر آیا ہے اِس سے بلوچستان کے نچلے طبقے کو کوئی سروکار نہیں کیونکہ نچلے طبقے کی زندگی کبھی بھی پْر آسائش نہیں رہی ہے اور نہ ہی یہ اپنی گاڑیوں کے گھسے پھٹے ٹائروں کو نیا کرانے کے لئے کسی میمن اور مہاجر ساہوکاروں کے سامنے اپنا’’واجہی‘‘ہاتھ پھیلا چکے ہیں اور نہ ہی یہ طبقہ کبھی بھی Mafia Survival Personal کا حصہ رہا ہے۔80 کی دہائی میں قوم پرستی کی لولی پاپ دینے والے (سرکاری گماشتے)جب سرکاری نوکریوں پر براجمان ہوگئے توقبضہ گیر بن گئے جہاں انہوں نے کوئی خالی زمین دیکھ لی اْس پر قبضہ جما لیا،جہاں انہوں نے کوئی اسامی دیکھ لی اْسے اقربا پروری کی نذر کردیا۔

جہاں انہوں نے کوئی ہلکی مراعات دیکھ لی وہاں اپنے گھٹنے ٹیک دیئے،جہاد پرست،قوم پرست یہاں تک کے ایم کیو ایم جیسی لسانی تنظیم (بقول سندھ سرکار) میں شمولیت سے بھی گریز نہیں کیا۔یعنی جہاں ذاتی بقاء کو خطرہ درپیش ہو وہاں ہرچیز جائز ہوجاتی ہے۔ آج پورے بلوچستان پر نظر دوڑائیں نچلے طبقے کے لوگوں کے لئے زمین کا ایک ٹکڑا بھی باقی نہیں بچا ہے سرکار سمیت سرکاری گماشتے سرکارکی آڑ میں قبضہ گیر بن گئے، بے سروسامانی میں آنے والے رفیوجیز آج ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک بن گئے اور عام بلوچ کو اپنا سر چھپانے کے لیے دوگز زمین نہیں مل رہا۔

اقربا پروری اورخاندانی بقاء کی پیروی کے الزامات ایک قوم پرست پارٹی اور اْس کے قائد پر بھی لگے ہیں اور مخالفین کی جانب سے یہی کہا گیا کہ انہوں نے بلوچ وحدت، بلوچ بقاء ،ساحل اور زمین سے زیادہ اپنے خاندانی بقاء کے لئے کام کیا۔اب ان تمام معروضی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بقول انورساجدی ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے جس میں قبضہ گیر مافیا اور گماشتوں کو یکسرمسترد کرکے ایک نئے سیاسی اور سماجی نظام کی تشکیل کرنی ہوگی خاندانی بقاء سے زیادہ بلوچ،زمین اور ساحل کی بقاء کے لئے نئے سرے سے صف بندی کرنی ہوگی بصورت دیگر’’دادا مریں گے جب بیل بٹیں گے‘‘ کے مصداق تماشاہی بننابہتر ہوگا۔