|

وقتِ اشاعت :   July 19 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ شہید منظور کی روڈ حادثے میں شہادت سے تنظم ایک دیرینہ نظریاتی ساتھی سے محروم ہوا ہے شہید کے علمی و قومی خدمات بلوچ قوم کے لیے ناقابل فراموش ہے۔ ترجمان نے شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ پاک شہید کیدرجات بلند کریں اور اس مشکل گھڑی میں اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا کریں۔مزید کہاکہ شہید منظور بلوچ کی شہادت وسیم بلوچ ودیگر سیاسی کارکنان کی گمشدگی سے بلوچ قوم کے ہر گھر میں صفہ ماتم ہے تنظم کے کارکنان عید سادگی سے منائیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرچکاہے سیاسی کارکنان کی ماروائے عدالت آئین قانون بڑھتی ہوئی اغواہ نما گرفتاریوں میں آئے روز اضافے سے بلوچ قوم میں شدید غم غصہ پایا جارہا ہے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں مل رہی۔ *ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف بلوچوں سے مذاکرات کا شوشا چھوڑا جارہا ہے اور دوسری طرف ریاستی بربریت انتہا پر ہے اگر ریاست مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو سب سے اغوا نما گرفتاریوں کے سلسلے کو ختم کرکے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنا ہوگا بصورت دیگر ماضی کی طرح موجود اعلان بھی ایک ڈھونگ دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔

اپنے بیان میں مذید کہا کہ ویسم تابش بلوچ سمیت دیگر سیاسی کارکنان کو عقوبت خانوں میں پابند سلال کرکے تشدد کا نشانہ بنانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اگر کسی بھی شخص نے آئین قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم بات چیت اور سیاسی عمل پر یقین رکھتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے ہمیشہ سے آئین کے رکھوالوں نے آئین کی دھجیاں اڑا کر بلوچ قوم کو بزور طاقت اپنے حقوق سے محروم کرکے دبانے کی کوشش کی گئی جس سے بلوچستان میں احساس محرومی نے جنم لی ہے۔

ریاست اگر واقعی بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدہ ہیں تو ماضی کی تلخ تجربات سے ہٹ کر بلوچستان کو برابری کا درجہ دینا ناگزیر بن چکا ہے۔*بی ایس او پجار وندر ذون کے آرگنائزر ویسم تابش بلوچ سمیت تمام سیاسی اسیران کی گمشدگی انسانی المیہ ہے بی ایس او پجارکے کارکنان یہ عید اسیران کے نام کرکے عید سادگی سے منائیں۔