|

وقتِ اشاعت :   August 7 – 2021

کراچی: لیاری عوامی محاذ کے صدر عیسی بلوچ اور جنرل سیکرٹری عبدالخالق زدران نے اپنے مشترکہ بیان میں7اگست 2013شہدائے بزنجو چوک معصوم فٹبالرز کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 8 سال قبل 7اگست 2013 رمضان المبارک کو رات ایک بجکر 36 منٹ جب ننھے معصوم فٹبالرز میچ کے اختتام پر ایک زور دار دھماکے سے بزنجو چوک لرز اٹھا ہر طرف معصوم فٹبالروں کی لاشیں اور زخمیوں کی آہو بقا قیامت صغرا کا منتظر پیش کررہا تھا۔

اس سفاکانہ درندگی میں 11 معصوم فٹبالرز شہد جبکہ 24 افراد جن میں معصوم بچے نوجوان اور بوڑھے زخمیوں میں شامل تھے جس سے لیاری میں سخت خوف ودہشت کی لہر کے عوام میں غم وغصے کی لہر پھیل پھیلنے لگی اور پھر جب اسی جگہ سے سو میٹر پر واقعہ جھٹ پٹ مارکیٹ میں 7 مہینے بعد 12 مارچ 2014 کو بم دھماکوں میں 19 خواتین کی شہادت اور 42 کے زخمی ہونے پر لیاری کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

عوام نے سفاکانہ درندگی کے خلاف ہزاروں افراد نے کراچی پریس کلب کے سامنے سخت احتجاج کے دوران اپنے گھروں کی چابیاں سڑکوں پر پھینک دی اور خواتین نے اپنی چوڑیاں پولیس و رینجرز کے سامنے رکھ کر سندھ حکومت کی دوخلی پالیسی اور وفاقی حکومت ریاستی اداروں کی بے بسی ومجرمانہ خاموشی پر سخت احتجاج کیا تو وزیر اعظم نواز شریف نے فوری طور پر ایکشن لیکر سندھ حکومت متعلقہ اداروں کو لیاری سمیت کراچی میں بوری بند لاش مافیا، گینگ واراور بھتہ مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لا کر عوام کو خوف ودہشت سے نجات دلائی، لیاری عوامی محاذ کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سانحہ بزنجو چوک اور سانحہ جھٹ پٹ مارکیٹ کی جوڈیشل انکوائری کرکے اصل مجرموں کو بے نقاب کرے اور اس سانحہ کے شہداء اور زخمیوں سے سندھ حکومت نے وعدے کئے اسے پورے کیئے جائیں۔