|

وقتِ اشاعت :   September 11 – 2021

کراچی: آٹھ سالوں سے لاپتہ جمیل بلوچ اور گذشتہ ماہ پنجگور سے لاپتہ ہونے والے نجیب بلوچ کی بازیابی کے لئے آج کراچی پریس کلب کے سامنے قائم ایک روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کے بعد جمیل بلوچ کی بیٹی اور نجیب بلوچ کی ہمشیرہ اسماء بلوچ کی جانب سے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا گیا کہ میرے ابو جمیل رحمت کو ہمارے علاقے آواران سے فورسز نے میری آنکھوں کے سامنے آٹھ سال پہلے 29 اپریل 2013 کی صبح جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔

والد کی طویل جبری گمشدگی سے ہم پہلے سے ہی شدید اذیت اور کرب سے گزر رہے تھے کہ آج سے ایک مہینہ پہلے یعنی 11 اگست کو ایف سی نے میرے بھائی نجیب بلوچ کو پنجگور سے کراچی جاتے ہوئے رخشان کور صرادک چیک پوسٹ پر بس سے اتار کر NIC چیک کرنے کے بعد انہیں اپنے تحویل میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا.انہوں نے مزید کہاکہ میرا بھائی نجیب بلوچ گزشتہ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کرتے رہا ہیں، حالیہ دنوں وہ چھٹیاں منانے گھر آئے تھے، ابھی چھٹیاں ختم ہونے پر وہ واپس پنجگور سے کراچی اور وہاں سے امارات جانے والے تھے کہ اس کو جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کیا گیا،اس سے پہلے میں اپنے والد کی بازیابی کیلئے احتجاج کرتی آرہی ہوں۔

ہم نے ابو کی بازیابی کیلئے آٹھ سالوں سے احتجاج کے تمام تر جمہوری اور آئینی طریقہ کار اختیار کیے، عدالتی نظام کو آزمایا، لکن بجائے اس کے کہ میرے ابو کو بازیاب کیا جاتا ابھی میرے بھائی کو بھی جبری لاپتہ کیا گیا، اپنے بھائی کی باحفاظت بازیابی کیلئے میں اپنی امی کے ساتھ کوئٹہ گئی ہوں، دو ہفتے تک بلوچ مسسنگ پرسنز کے کیمپ میں بیٹھے رہے ہیں، احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا ہے، سوشل میڈیا اور دیگر تمام ذرائع سے آواز اٹھاتی رہی ہوں، لیکن آج تک میرے بھائی اور ابو کا کوئی خیر خبر ہم تک نہیں پہنچا اور ایک مہینے گزرنے کے باوجود حکومتی اعلیٰ حکام کی طرف سے ہمیں کسی نے رابطہ تک نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی فریاد لے کر پہلے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور آج یہاں کراچی آئے ہیں اور آپ حضرات کو بتاتا چلیں کہ اس سے پہلے بھی ہمارے خاندان کے اور لوگوں کو اس ظلم تسلسل کا شکار بنایا گیا ہے۔

ہمارے خاندان کو اجتماعی ظلم کا شکار بنایا جا رہا ہے، میرے والد اور اب میرے بھائی کو صرف اس بنیاد پر اٹھا کر لاپتہ کیا گیا کہ ہم ایک آزاد فضاء میں جینے کی بات کرتے ہیںکیا ہمیں اپنے ہی زمین پر سکون سے جینے کا حق نہیں ہے کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں،کیا اپنے ابو کیلئے آواز اٹھانا کوئی جرم تھا اور ہمیں اب اس کی سزا جرم میرے بھائی کو اٹھا کر دیا جا رہا ہے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو شدید ازیت میں جینا پڑ رہی ہے