کوئٹہ: چیئرمین بی ایس او جہانگیر منظور بلوچ نے پنجگور میں آئے روز بڑھتی ہوئی قتل و غارت اور بدامنی کے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجگور شہر میں رواں ماہ رونماء ہونے والے واقعات نے وہاں کے لوگوں کو خوف و بے چینی میں مبتلاء کردیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ پنجگور میں گزشتہ ماہ ایک معصوم بچہ قدیرخلیل کو انکے گھر کے سامنے سے گھسیٹ کر بے دردی سے قتل کردیا گیا جس پر پنجگور کے لوگوں نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کی لیکن حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔قدیرخلیل کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اسکے برعکس پنجگور میں دن بدن نوجوانوں کو سرعام قتل کیا جارہا ہے۔
چئیرمین بی ایس او نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں نوجوان جلیل سنجرانی کی قتل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پنجگور جیسے پرامن شہر کو ایک قتل گاہ بنادیا گیا ہے جہاں پر لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔
بلوچستان بھر میں مسلحہ جھتوں کو کھلی چوٹ دے دی گئی ہے جبکہ کہیں پر بھی انتظامیہ کا رٹ نظر نہیں آرہا اور نہ ہی اس واقعات کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات نظر آتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ایک بار پھر بلوچستان کے سلگتے حالات کو سازش کے تحت کشیدگی کی طرف لے جایا جارہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ پنجگور میں اس وقت لوگ سڑکوں پر نکل کر انصاف اور امن کی صدائیں لگارہے ہیں لیکن انکو سننے والا کوئی نہیں۔