|

وقتِ اشاعت :   September 24 – 2021

خضدار: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی سیکریٹری جنرل ناد ربلوچ، بی ایس او خضدار کے زونل آرگنائزر عمران بلوچ، اسٹونٹس ونگ بی این پی عوامی کے صدررئیس نوید مینگل ،زونل انفارمیشن سیکریٹری بی ایس او سراج بلوچ، سینٹرل کمیٹی ممبر بی ایس او پجار بابل بلوچ، سینٹرل کمیٹی ممبر بی ایس او پجار شکیل بلوچ ،زونل صدر بی ایس او پجار کریم بلوچ ودیگر نے خضدار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ گز شتہ شب کوئٹہ میں طلبہ پر فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے اور انہیں گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد ان پربوگس ایف آئی آردرج کرنے کی مذمت کرتے ہیں اس جدید دور میں جہاں دنیا روز بروز وز ترقی کی جانب گامزن ہے۔

تو وہی بلوچستان کے باسی دو وقت کی روٹی اور اپنی بنیادی حقوق سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور امن امان خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، حکومت کی جانب سے میرٹ کی دھجیاں اڑاکر من پسند اشخاص کو نوازا جارہا ہے جب عوام اور طلبہ ان ناانصافیوں سے تنگ آکر روڈوں پر نکل آتے ہیں تو حکومت اپنی ناکامیوں اور غلط پالیسیوں کو چھپانے کی خاطر فورسز کو استعمال کرکے ان پر لاٹھیاں برساتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی استحصالی پالیسی کی وجہ سے آج مزدور ملازم طلبا سب روڈوں پر نکلے ہوئیں ہیں پاکستان تاریخ کی بدترین صورت حال سے دوچار ہیں لوگ فاق کشی پر مجبور ہیں۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گزشتہ روز پی ای سی کی جانب سے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کو آن لائن لینے کے خلاف اسٹوڈنٹس نے احتجاج کرکے فزیکل ٹیسٹ لینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مطالبات کو سنجیدہ لینے اور ان مطالبات کو ماننے کی بجائے طلبا پرتشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیکل ٹیسٹ کوفزیکل لینے پاسنگ مارکس کو 50پرسنٹ رکھنے کے مطالبات اوربلوچستان کے میڈیکل کے طلبا کے کوٹ کو باقی صوبوں میں بحال کرنے کے خلاف تمام طلبا تنظیموں نے میڈیکل کے طلبا کی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

جس کے بعد گزشتہ روز تمام طلباتنظیمیں بشمول میڈیکل میرٹ متاثرین طلبا ملکر ایک ریلی کی شکل میں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ گئے تو رات 11بجے تک حکومت کے مختلف وفود طلبا کے پاس آئیں اور تمام مطالبات کو جائز قرار دیکر حل کرنے کی یقین دہانی کی اور اس سلسلے میں طلبا کی ایک وفد کا گورنر بلوچستان سے ملاقات ہوئی جہاں گورنر بلوچستان نے مطالبات ماننے کی یقین دہانی کی لیکن ایک بجے کے وقت اچانک پولیس کی جانب سے پرامن احتجاج پر بیٹھے طلبا پر لاٹھی چارج کی گئی جس کے نتیجے میں کئیں طلباشدید زخمی ہوگئیں جبکہ سینکڑوں طلبہ کو گرفتار بھی کیاگیا جن میں بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین زبیربلوچ، بی ایس او کیمرکزی رہنما اورنگزیب بلوچ اور جیئند بلوچ سمیت دیگر طلبا شامل تھے۔

ان طلبا رہنماوں و کارکنان کو گرفتار کر کے تھانے میں رکھ کر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر ایف آئی آر کی گئی لہذا ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے حکومت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ طلبہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہو سکتے۔ہم پرامن جدوجہد کے قائل ہے اپنے مطالبات کے حق میں پرامن جدوجہد سے پیچھے کسی صورت نہیں ہٹیں گے اور حکومت بلوچستان کی جانب سے طلبا کی پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج ان پر ایف آئی آر کے خلاف پورے بلوچستان میں مشترکہ طور پرکال بروز ہفتہ سے احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔

اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد طلبا رہنماوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر واپس لی جائے اور طلبا پرتشددکرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لا کر میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے طلبا کے مطالبات منظور کیے جائیں۔ اگر حکومت کی جانب سے ہمارے ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا تو مرکزی دھرنا کوئٹہ میں جاری ہے پھر اس کا دائرہ کار بڑھا کر پورے بلوچستان تک پھیلایا جائیگا۔