کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے طلباء پر تشدد اور گرفتاری کی بھرپور الفاظ میں مزمت کی ہے بیان میں کہاگیاہے کہ طلبا اپنے جائز مطالبات کی خاطر اپنی تعلیم چھوڑ کر موجودہ حکومت کی نااہلی، میرٹ کی پامالی علم کے حصول میں اقربا پروری، اور آن لائن ٹیسٹ لینے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ بیان میں کہا گیا ہیے کہ پی ایم سی کی نااہلی ثابت ھوچکی کہ وہ انتہائی تھرڈ کلاس طریقے سے آن لائن ٹیسٹ لے رہی ہے اور اسکے بدلے میں سے باری فیس بھی لیتی ہے۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ موجودہ حکومت ہر شعبے میں مکمل ناکام اور اپاہچ بن چکی ہے اب تعلیمی شعبے میں ٹھیکداری سسٹم رائج کرکے طلباکے مستقبل سے کھیل رہی ہے بیان میں کہاگیا ہے کہ طلبا کے مطالبات برحق ہے کہ موجودہ فراڈ ناقص پی ایم سی کے ٹیسٹ کو منسوخ کیا جائے، انکے تحریری ٹیسٹ امیدوار کی موجودگی میں تحریری طور پر لیا جائے اور میرٹ کا جو فارمولا رکھا گیا ہے اسکو ختم کرکے سابقہ فارمولے کو رائج کیاجائے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ لیکن موجودہ بے حس عقل و منطق دلیل سے ماوف صوبائی حکومت کو کون سمجھائے یہ ساری باتیں انکے سامنے بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے آخر میں مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ طلبا کو رہا کرکے انکے مطالبات تسلیم کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ ان عاقبت اندیس صوبائی حکومت وزیراعلی صاحب کو یہ بھی خبر نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت صوبے کے دائرہ اختیار میں ہے پی ایم ڈی سی اور پی ایم سی کی کیا مجال ہے کہ صوبے کی صحت کے شعبے میں متعلق پالیسی بنائے لیکن منطق و دلیل سے عاری صوبائی حکومت اپنی من مانی کررہی ہے آخر میً مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ طلباء کے مطالبات کو تسلیم کیاجائے اور انکو رہا کیاجائے آئین کے مطابق پی ڈی ایم سی اور پی ایم سی کی مداخلت بند کیا جائے اور اپنی پی ایم ڈی سی کی تشکیل ہو جو اٹھارویں ترمیم کی عین مطابق ہے۔