حب : بلوچ عوامی موومنٹ کے مرکزی آرگنازر ریس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ اور رکن مرکزی آرگنازنگ کمیٹی اکرام اللہ بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلیدہ میں میر خلیل رند اور بی ایس او کے چیرمین ظریف رند کے گھر میں گھس کر پولیس نیچادرو چار دیواری کا تقدس پامال کیاہے اور یہ پولیس کی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہیجو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی سرچ وارنٹ کے کسی شہری کے گھر میں گھسنا دراندازی اور دہشت گردی ہے۔ جس پر کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت مکران میں جو کشت وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ وہ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور موجودہ صوبای ومرکزی حکومتوں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف میرخلیل رند کے گھر میں چوروں کی طرح گھس کر چادر وچاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا تو دوسری جانب خواتین اور معصوم بچوں پر فارنگ کھول دینا کھلی دہشت گردی ہے اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
جس کی جتنی مذمت کی جاے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرخلیل رند کے گھر میں معصوم رامز خلیل اور ایان خلیل کو گھولیوں سے چھلنی کرکے آخر پولیس کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ معصوم رامز خلیل رند کی شہادت نے مکران پولیس کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ جوایک سازش کے تحت مکران کے حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔
جو خطے کے امن کے لیے انتہای نقصان دہ ہے۔ جس کو فی الفور روکا جاے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ میں گزشتہ دوسالوں میں یکے بعد دیگرے قتل کی وارداتیں علاقہ کے امن، حکمرانوں کی جانب سے قیام امن کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے اور حکمرانوں کی گڈ گورننس پرسوالیہ نشان ہیں۔
جبکہ بلوچستان اسمبلی میں موجود حکومت اور اپوزیشن کا محض پی ایس ڈی پی کا چیخ وپکار کرنا دوسری جانب ریاستی اداروں کی جانب سے آے روز کشت و خون کی وارداتیں ہونا تشویشناک عمل ہے۔ جس پر خاموش نہیں رہ سکتے اور نہ ہی کسی کو اجازت دی جاسکتی ہے کہ مکران سمیت بلوچستان بھر میں خطے کی عوام کا کشت وخون کرے