کوئٹہ : بلوچستان کے ادب کے معماروں نے ہر دور میں وطن دوستی کو فروغ دیا۔ ترقی کو عوام کی خوشحالی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات کوئٹہ کے زیراہتمام بزرگ عالم، دانشور، براہوئی اور بلوچی زبان کے نامور شاعر، ماہر قانون قاضی عبدالحمید شیرزاد نے پروفیسر نادر قمبرانی اور بابو عبدالرحمٰن کُرد کی شخصیت و شاعری کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب کی میزبانی افضل مراد نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان علم و ادب کے حوالے سے زرخیز صوبہ ہے۔ یہاں کے دانشوروں نے نوجوانوں کی جس طرح سرپرستی کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ خود بھی سیلف میڈ تھے اور انہوں نے نوجوانوں کو بھی بے سر و سامانی کے باوجود تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے کا جذبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نادر قمبرانی اور بابو عبدالرحمٰن کُرد نے طلباء و طالبات کی تعلیم کو بھی ترجیح دیتے تھے۔
سیاست میں بھی انہوں نے صحیح سمت میں رہنمائی میں مقام پایا۔ آج کا نوجوان انکی خدمات آمرانہ مزاج رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف جد و جہد میں انکی خدمات اور علم و ادب کے میدان میں اپنے نظریات کو مثبت انداز میں سامنے لانے کے عمل کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ قاضی عبدالحمید شیرزاد نے کہا کہ تیز رفتار ترقی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ علم و ادب کے ماحول کو سرگرم رکھنا ہوگا۔ جدید سہولیات سے زیادہ مستفید دینا ہوگا۔اس تقریب میں ڈاکٹر سلیم کُرد، زوراخ بلوچ، عبدالقیوم بیدار، وحید زہیر، پناہ بلوچ، اے ڈی بلوچ، پروفیسر غلام دستگیر صابر، رازق ابابکی، حسن ناصر، حمید عزیز آبادی، حمیدہ نور، سعید کاکڑ، ڈاکٹر غلام محمد کھیتران کے علاوہ نوجوانوں نے شرکت کی اور بلوچستان کے ادب و زبانوں میں خدمات انجام دینے والے اہل قلم کے بارے میں سوالات کیے۔ تقریب کے آخر میں مہمانوں کی تواضع کی گئی۔