کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ نے کلی جیو اتحاد کالونی کے سکول کے دورے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی ہمیشہ سے علم دوست اور تعلیمی مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہی ہے جب پارٹی برسراقتدار تھی تو بی این پی نے تعلیم کے بجٹ میں 25فیصد اضافے کرتے ہوئے سکولز کالجز پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے اساتذہ کے ساتھ بہتر روابط رکھتے ہوئے ان کے مسائل حل کئے۔
ہم جب بھی حکومت میں آئے تو تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی بزرگ سیاستدان سردار عطااللہ خان مینگل نے بھی اپنے دور حکومت میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی بی این پی پڑھے لکھے بلوچستان کی خواہش مند ہے ہماری آج بھی کوشش ہے کہ ہم تعلیم کے حوالے سے عملی اقدامات کرے انہوں نے کہا کہ بی این پی کی کوشش سے 40کروڑ کی لاکت سے گوہر آباد سریاب میں گرلز کالج کی تعمیر بزرگ سیاستدان سردار عطااللہ مینگل کے نام سے لائبریری کی تعمیر بھی جاری ہے بی این پی کے ایم پی ایز پر کالجز یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔
ہماری محور و مقصد بھی یہی ہے کہ تعلیم انقلاب برپا کیا جائے اکیسویں صدی میں تعلیم کے ذریعے ہی گامزن کیا جا سکتا ہے قلم کو ہتھیار بنا کر ہی ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے جدوجہد کی جا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ آج سریاب جیو کرانی ہنہ اوڑک سرہ غزگئی سنجدی کے علاقوں میں قائم سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بچوں کو کتب پانی سمیت دیگر جدید سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت فوری طور پر ان علاقوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سکول کالجز کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کلی جیو اتحاد کالونی کے ہائی سکول کے اساتذہ سے کہا کہ بی این پی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود کوشش کر رہی ہے کہ کوئٹہ کی سب سے بڑی قدیم آبادی سریاب جیو بروری ہنہ اوڑک سنجدی مارواڑ و دیگر علاقوں میں طلباکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر نے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے قیام کیلئے آواز بلند کی ہے اور جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے اساتذہ کو یقین دلایا کہ وزیر تعلیم سیکرٹری تعلیم سے اساتذہ کی کمی کے حوالے سے بات چیت کریں گے اس موقع پر شاہنوازکشانی لیاقت علی کھیازئی ولی خان بڑیچ عثمان خان بڑیچ ودیگر بھی دورے کے موقع پر ہمراہ تھے ۔