کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اجتماعی سزا قرار دے دیا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ بساک کے چئیرپرسن ڈاکٹرصبیحہ بلوچ کا بھائی شاہ میر زہری خضدار انجنئرنگ یونیورسٹی کا طالبعلم ہے جنہیں کچھ مہینہ قبل جبری طور پر لاپتہ کردیاگیا۔
تھالیکن مختلف ہتھکنڈوں سے خاندان کو دباؤ کے ذریعے خاموش کرایا گیا اور کچھ دنوں بعد ان کے کزن کو بھی جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔انھوں نے کہا ہے کہ تنظیم سیاسی کارکنان کی خاندانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں دباؤ کے ذریعے خاموش کرانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔یہ عمل کسی بھی جمہوری ملک میں آئینی اقدار و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان میں ہمیشہ سے اس طرح کے واقعات ہوتے چلے آرہے ہیں۔اس طرح کے واقعات بلوچ طلباء سیاست میں پرامن جدوجہد کے حامی کارکنان کیلئے انتہائی مایوس کن ہیں۔
کسی بھی شخص کو سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا نہ صرف بین القوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ملکی آئین و قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ترجمان بی ایس او نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے شکار لوگوں میں سے سب سے بڑی تعداد بلوچ طالبعلموں کی ہے جنہیں مختلف تعلیمی اداروں سے اغوا کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے اور انہیں تاہال منظر عام پر نہیں لایا جارہا۔ ماورائے قانون نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنا دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقتدرہ قوتیں بلوچستان میں طلبا سیاست اور شعوری جدوجہد کا راستہ بزور طاقت روکنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ایک طلبا تنظیم کی چئیرپرسن ہیں اور انھوں نے ہمیشہ بلوچستان کے تعلیمی مسائل پر جدوجہد کی ہے۔