|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2021

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام 7اکتوبر 1983کے شہدا جمہوریت اولس یارشہید ، کا کا محمود شہید، رمضان شہید، دائودخان شہید کی 38ویں برسی اور 11اکتوبر 1991کے شہداء وطن عبدالرحیم کلیوال شہید ، صابر شاہ شہید،باز محمد بازشہید ، حبیب الرحمن شہید،صاحب خان شہید کے شہادت کی 30ویں برسی کے موقع پر پشتونخوامیپ کے زیر اہتمام مختلف اضلاع میں شہدا کو ان کی لازوال جدوجہد اور قروبانیوں پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی اجتماعات اور سیمینار منعقد کیئے گئے ۔

ضلع ژوب کے ظریف شہید پارک میں اجتماع سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضامحمد رضا ، سلطان ناصر آکا ، عبدالقیوم ایڈووکیٹ، عبدالعزیز ایڈووکیٹ، جمال بشر مل ، نعمت اللہ مندوخیل، محمد شاہ ، میروائس خان ، حافظ عید محمد نے خطاب کیا۔ لورالائی میں تعزیتی اجتماع سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبید اللہ جان بابت، سردار گل مرجان کبزئی، نعمت اللہ جلالزئی، غنی فدائی، مصطفی کمال ،رضا محمد رضا ناصر ،مولوی فضل کریم نے خطاب کیا۔ پشین کے ضلعی اسمبلی میں سیمینار سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی،صوبائی سیکرٹری اطلاعات وضلعی سیکرٹری پشین محمد عیسیٰ روشان، ضلعی معاونین حاجی عبدالحق ابدال، عبدالواجد وطنپال ، علی محمد کلیوال ، سید امین اللہ بشر نے خطاب کیا۔ شیرانی کے سلیازہ کے مقام پر تعزیتی اجتماع سے ضلعی سیکرٹری غلام الدین شیرانی ، سینئر معاون سیکرٹری جلات خان ، زلاند خان، امیر جان ،،دائود خان ،وکیل خان ، محمود شیرانی، پشتون یار نے خطاب کیا۔ زیارت پارٹی کے ضلعی دفتر میں سیمینار سے شاہ زمان خان، فیاض خان ، میروائس خان ، نور محمد نورک ، ہاشم خان، شیر اسلام اور عیسیٰ خان نے خطاب کیا۔ سنجاوی شار علاقائی یونٹ کے سیکرٹری وہاب خان کی رہائش گاہ پر تعزیتی اجتماع سے سردار حبیب الرحمن دومڑ، ملک احسان اللہ دومڑ، ملک محمد عیسیٰ دومڑ ، رشید آغاودیگر نے خطاب کیا۔

سبی میں سیمینار سے ضلعی سیکرٹری احمد خان لونی ، ضلعی ایگزیکٹونور احمد شاہ خجک ، خلیل اللہ مرغزانی ، شادی خان خجک نے خطاب کیا۔ موسی خیل میں تعزیتی سیمینار سے ضلعی سیکرٹری عید محمد موسیٰ خیل ، یوسف خان ، مراد خان ، نصراللہ لالا ، عبدالخالق ،حیات خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوامیپ نے خان شہیدکی شروع کردہ تحریک کے روز اول سے سامراجی اور آمرحکمرانوں ان کے کاسہ لیسوں کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے اقوام وعوام کے حقوق واختیارات کے حصول کیلئے تاریخ ساز قربانیاں دیںاور انگریزی سامراج کو نکالنے کے بعد اس ملک کے بننے کے ساتھ ہی ملک میں آئین کی حکمرانی اور عوام کو ووٹ کا حق دلانے کیلئے جدوجہد جاری رکھی لیکن اس ملک کے حکمرانوں انگریز کے کاسہ لیسوں نے اقتدار پر قابض ہوکر ملک کو 26سال تک بغیر آئین رکھا گیا اور اس دوران ایوبی مارشلاء مسلط کرکے مغربی پاکستان کے محکوم قوموں کو ون یونٹ کے ذریعے ہر قسم کے حقوق واختیارات سے محروم کردیا گیا اور خان شہید کو گرفتارکرکے 14سال قید بامشقت دی گئی۔

خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی ایوبی مارشلاء کے سب سے پہلے سیاسی قیدی تھے اور رہا ہونیوالوں میں سب سے آخری قیدی تھے۔ خان شہید اور دوسرے اکابرین کی جدوجہد کے نتیجے میں ایوبی مارشلاء کو ختم ہونا پڑا اور 1970کے انتخابات ہوئے جس میں شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگئی لیکن ملک کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکارکیا جس کے نتیجے میں بنگال علیحدہ ہوا اور یہاں ذوالفقارعلی بھٹو کی پیپلز پارٹی کی حکمرانی قائم ہوئی جنہو ںنے 1973کا آئین بنایا جس میں قوموں کی حقیقی شناخت اور حقیقی حقوق واختیارات نہیں دیئے گئے لیکن پھربھی جمہوریت کو چھوڑنے نہیں دیا گیا اور بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے شہید کیا گیا اور ضیاء الحق کا مارشلاء مسلط کیا گیا ۔ جس نے ملک میں اقوام وعوام کے تمام حقو ق واختیارات سلب کرکے ہر کسی کی تحریر وتقریر پر پابندی لگادی اور ہر قسم انسانی بنیادی حقوق اقوام وعوام سے چھین لیئے گئے۔

جس کے خلاف ایم آر ڈی نے تاریخ ساز جدوجہد کی اور اسی جدوجہد کے دوران 7اکتوبر 1983کو کوئٹہ میں ایم آر ڈی اور پشتونخوامیپ کے زیر اہتمام پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تاریخی احتجاجی جلوس نکالاگیا جنہوں نے سندھ کے سیاسی رہنمائوں کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مارشلاء مردہ آباد ، جمہوریت زندہ آباد کے نعرے لگائیں جس پر وقت کے جنرل ڈائر گورنر رحیم الدین کے حکم پر پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر قاتلانہ حملے ہوئے فائرنگ کی گئی ، آنسو گیس ، لاٹھی چارج ہوا جس میں پارٹی کے چار کارکن شہید ،لاتعداد زخمی ، درجنوں کارکن اور رہنماء گرفتار ہوئے۔ اور پارٹی سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف غیر قانونی دروغ گوئی اور جھوٹ پر مبنی ناروا یعنی اپنے ہی ساتھیوں کے غلط مقدمات درج کیئے گئے جس کے نتیجے میں انہیں ساڑھے چھ سال تک روپوشی کی زندگی گزارنی پڑی ۔

مقررین نے کہا کہ دوسری طرف ملک کی تاریخ میں جب جمہوری حکومتیں قائم ہوئی تو ضیاء الحق دور کےغیر آئینی وغیر قانونی اور غیر جمہوری ترمیم 58-2Bکے ذریعے عوام کے منتخب حکومتوں کو توڑتے رہے اور کئی حکومتوں کو ہٹھانے کے بعد پرویز مشرف کا مارشلاء مسلط کیا گیا اور اقوام وعوام کے جمہوری اقتدار کو چھین لیا گیا جس کے کیخلاف سیاسی جمہوری قوتوں نے APDMکے پلیٹ فارم سے تاریخی جدوجہد کی۔ اور اس کے بعد پھر جمہوری حکومتوں کا قیام ممکن ہوا لیکن انہیں بھی کام کرنے نہیں دیا گیا۔اور منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو منصوبہ بند سازش کے ذریعے ہٹایا گیا اور ہمارے پشتون بلوچ صوبے میں منتخب جمہوری حکومت کو توڑا گیا ۔

مقررین نے کہا کہ ملک میں روز اول سے اسٹیبلشمنٹ بلاواسطہ یا بلواسطہ اقتدار پر مسلط رہے اور مارشلائوں کے ذریعے حکومت کرتے ہوئے ہمیشہ ملکی آئین کو پائمال کیا اور دوسری طرف جمہوری حکومتوں کے قیام کے بعد انہیں بھی کام کرنے نہیں دیا گیااور اسٹیبلشمنٹ اور ان کے خفیہ اداروں نے 2018کے انتخابات میں زر وزور اور دھاندلی کے ذریعے بدترین دھاندلی کرتے ہوئے عمران خان اور ان کے ٹولے کو ملک پر مسلط کیا اور اس پشتون بلوچ صوبے میں ایک ہی رات میں بنائے گئے پارٹی کو عوام پر مسلط کرکے درحقیقت اقتدار کے تمام اختیارات اپنے ہاتھوں میںرکھے اور اس سنگین آئینی پائمالی کے نتیجے میں آج ملک بدترین بحرانوں کا سامنا کررہا ہے۔ ملکی معیشت ختم ہوکر رہ گئی ہے ،ملک کی داخلہ وخارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے، آئین کو عضو معطل بنا دیا گیا ہے