|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2021

کوئٹہ: بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر مزار خان بلوچ آڈیٹوریم میں جدید طریقوں سے آنتوں کو جوڑنے کے حوالے سے ایک سرجیکل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا اس ورکشاپ کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر بیزن بلوچ اسسٹنٹ پروفیسر جنرل سرجری ڈیپارٹمنٹ بی ایم سی تھے ورکشاپ میڈٹرونک پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوا اس کی صدارت بلوچستان کے معروف سرجن پروفیسر عبدالقیوم کا سی نے کی۔

جبکہ مہمان خصوصی پروفیسر ظاہر خان مندوخیل پرنسپل بی ایم سی سرجن نصیب اللہ زرکون اور بی ایم سی ہسپتال کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر عبدالرشید جمالی تھے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے چیف آرگنائزر ڈاکٹر بیزن بلوچ نے کہا کہ آنتوں کو جوڑنے کا آپریشن پانچ ہزار سال پہلے مصریوں سے شروع ہوا اس کے بعد اس میں جدت فرنچ سرجن انتونی لیمپ برٹ نے1826میں لائی اس کے بعد مشہور امریکی سرجن ہالیسٹڈ نے اس کو جدید طریقے سے استوار کیا سرجن ڈاکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ آنتوں کو جوڑنے کا کام سرجری میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور جدید طریقے سے اسٹیپلرکے ذریعے اس کو سمجھنا اور سیکھنا جدید دور کی ضرورت ہے سرجن نصیب اللہ زرکون نے کہا ہے کہ اس طرح کے ورکشاپ کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہم جدید طریقوں سے سرجری کے میدان میں جدید علم کو اپنے شاگرد اور اسٹوڈنٹس تک پہنچا سکیں پروفیسر ظاہر خان مندوخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اس طرز کے ورکشاپ کا انعقاد ایک اچھی روایت ہے اور ہر شعبے میں اس طرح کے روایت کو ترویج دینے کی ضرورت ہے۔

آخر میں صدر تقریب پروفیسر عبدالقیوم خان کاسی نے سب کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ہمارے نوجوان سرجن جدید علم کے ساتھ اپنے آپ کو نزدیک رکھیں گے انہوں نے کہا کہ بی ایم سی میں انہوں نے 1990کے زمانے میں اسی طریقے کو متعارف کرانے میں کردار ادا کیا لیکن سہولیات کی کمی اور عدم توجہ کی وجہ سے یہ جدید طریقہ ہمارے اداروں میں پروان نہ چڑھ سکا آخر میں انہوں نے آرگنائزر اور فیسیلیٹشنر میں شیلڈز تقسیم کیے جبکہ اس ورکشاپ کے مرکزی کردار سید جمیل الرحمن نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد آنتوں کو جوڑنے کے پریکٹیکل ورکشاپ میں ایف سی پی ایس کے ٹرینی اسٹوڈنٹس نے بڑھ چڑھ کر عملی طور پر حصہ لیا۔