کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں آئے روز مظالم میں شدت آرہا ہے۔ بلوچستان میں روح کو تڑپا دینے والے مظالم کے واقعات نے ہر بلوچ کے دل کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کیچ میں خاتون تاج بی بی کی قتل و ہوشاپ میں معصوم بچوں پر گولہ باری سمیت کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم نوید بلوچ کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں اغوا و جبری گمشدگیاں کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ بی ایس او روز اول سے بلوچ سمیت کسی بھی قوم کے ساتھ پیش آنے والے مظالم کے خلاف بلا شبہ آواز بلند کرتی رہی ہے اور ہر مظلوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ اس طرح کے واقعات نے بلوچ قومی جذبے کو مجروح نوجوان، سیاسی کارکن، خاندانوں سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ہوشاپ میں شہداء کے لاشوں کو کوئٹہ لے جانے کا فیصلہ بی ایس او کا نہیں بلکہ ان کی خاندان کی طرف سے تھا اور بی ایس او نے ان کا حمایت کیا تھا اور ہمیشہ ہم نے ہر ظلم کے خلاف اٹھ کر مظالم کی نفی کرتے رہے ہیں جسے ہم قومی ذمہداریوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بی ایس زور اول سے لے کر اب تک شہداء کی لواحقین کے ساتھ ہے اور ان کی مطالبات تسلیم ہونے تک ان کا ساتھ دی گی۔
گزشتہ دنوں ایک زمہ دار شخص نے اپنے انٹرویو میں تنظیم کے مرکزی و زونل عہدیداروں کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں ان میں صداقت نہیں ہے اور ہم ایک بار پھر وضاحت کرتے ہیں کہ شہداء کے لواحقین نے لاشوں سمیت کوئٹہ لے جانے و دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کی حمایت کرکے اس وقت بھی بی ایس او کے اراکین دھرنے پر موجود ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کے حوالے سے معاملات کا باریک بینی سے ادراک کرکے ذمہدارانہ طریقے سے لب کشائی کی جائے۔ ترجمان نے کہاکہ اس وقت شہداء کے لواحقین پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ مطالبات مانے بغیر وہ لاشوں کو دفنا دیں لیکن بلوچ قوم مسلسل جبر و استحصال سے تنگ آچکا ہے اب مذید لاشیں اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور نا ہی یہ پہلا حربہ ہے کہ معصوم بچوں کو قتل کرکے چیخنے پر پابندی لگائی جارہی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ شہدا کہ لواحقین کو ہوشاپ میں دس گھنٹوں تک روک کر لاشوں کی تذلیل کی گئی اور انہیں جمہوری احتجاج کی حق سے دستبردار کرانے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ تین دنوں سے لواحقین دو معصوم بچوں کی لاشوں کو لیکر گورنرہاؤس کے سامنے شال کی یخ بستہ ہواوں میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن اب تک حکومت کی جانب کوئی بھی نمائندہ ان کے مطالبات سننے نہیں آیا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان تاریخ کے اندوہناک باب سے گزر رہا ہے جہاں لاشوں کے تابوت حکمرانوں کی اعوانوں کے سامنے احتجاج کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی ٹھس سے مس نہیں ہورہا۔ بی ایس او متاثرہ خاندان اور لواحقین کے مطالبات کی بھرپورحمایت کرتی ہے اور اگر حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے کل تک انکے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو بلوچستان سمیت ملک کے دیگر شہروں میں احتجاج کریں گے۔