کوئٹہ : امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ موجودہ حکومت کے تمام اقدامات مہنگائی ،بے روزگاری ،بدعنوانی وبدامنی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔بلوچستان کے عوام کے مسائل ومشکلات میں اس حکومت میں بھی اضافہ ہواترقی وخوشحالی کاکوئی میگا پراجیکٹ شروع ہوایہ سی پیک سے صوبے کو حق ملا۔بلوچستان کے عوام سے سوتیلی ماں کا سلوک جاری ہے جماعت اسلامی اس ظلم وجبر کے خلاف ہرفورم پر جدوجہد کر رہی ہے ۔بجلی وگیس لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 38ماہ میں کس طرح بیڈ گورننس، مہنگائی، بے روزگاری، معیشت کی تباہی، وعدہ خلافیوں، یوٹرنز، ناکام خارجہ پالیسی، بدامنی، زراعت و صنعت کی تباہی، قومی اداروں کی تضحیک اور زوال، پارلیمنٹ کی بے توقیری کی تاریخ رقم کی۔ موجودہ حکومت کے دور میں سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا نہ صرف تسلسل رہا بلکہ کئی شعبوں میں مزید تباہی آئی اور ملک دہائیاں پیچھے چلا گیا۔ بیرونی قرضوں میں گزشتہ 38ماہ میں 27ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پیٹرول کی قیمت 95روپے بڑھ کر 138روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ساڑھے پانچ روپے کا اضافہ ہوا۔ زراعت تباہ ہوئی، کپاس کی پیداوار 1.4کروڑ گانٹھوں سے 56لاکھ گانٹھوں تک پہنچ چکی ہے۔ چینی سکینڈل، آٹا بحران، ایل این جی اور پیٹرول سکینڈل میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو لگ بھگ 500ارب کا نقصان ہوا۔ ملک میں 24فیصدپڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں جب کہ 70لاکھ منشیات کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ حکومت نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا کوئی پروگرام متعارف نہیں کرایا۔ ماحولیاتی آلودگی کی عالمی درجہ بندی کے مطابق 180ممالک میں پاکستان 140ویں نمبر پر ہے۔کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے اضلاع کے بڑے شہر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔صفائی وٹریفک کا کوئی نظام نہیں۔ اس حکومت نے 12دفعہ ادویات کی قیمتیں بڑھائیں۔ ملک میں 37لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔
حکومت کی کارکردگی ناکام، ناکام اورہر حوالے سے ناکام ہے ثابت ہو گیا ہے کہ نام نہاد بڑی جماعتیں مکمل طورپر فلاپ ہو گئی ہیں۔ اب عوام کے پاس صرف جماعت اسلامی پر ہی اعتماد کرنے کا آپشن بچا ہے۔ اگر عوام نے جماعت اسلامی کو موقع دیا تو اللہ کی مدد و نصرت سے پاکستان کواسلامی بناکر بلوچستان کو ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر ڈالیں گے ہم اسلام کے زریں اصولوں کو اپنا کر ہی اس مملکت خداداد کو عظیم فلاحی ریاست بنائیں گے اور عوام کے مسائل حل کریں گے۔