کوئٹہ: سیاسی رہنماوں ، صحافتی تنظیموں ، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سابق صدر سینئر صحافی رشید بیگ کو ان کی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کردار اور جدوجہد سے جو تاریخ رقم کی ہے یہ اعزاز بہت کم لوگوں کو ملتا ہے ، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ان خیالات کا اظہار مقررین نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے زیراہتمام سینئر صحافی کوئٹہ پریس کلب کے سابق صدر رشید بیگ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بزرگ سیاسی رہنما سابق سینیٹرخدائے نور خان نے کہا کہ جب انہوں نے 1980میں سیاست کاآغازکیاتورشیدبیگ نے ان کابھرپورساتھ دیااوران کی پچاس سالہ رفاقت رہی انہوں نے کہا کہ رشیدبیگ نے تمام شعبوں میں اخلاص کیساتھ کام کیااورمرتے دم تک ان کے پاس سواری تک نہیں تھی ، انہوں نیتجویز دی کہ کوئٹہ پریس کلب کے ہال کو رشیدبیگ کے نام سے منسوب کیاجائے۔
صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ مزدور تحریک ، صحافت یا وکالت کا شعبہ ہو کچھ لوگوں کا کردار نمایاں ہوتا ہے ، رشید بیگ سے 1989 میں ملکر پریس کلب کو فعال کرنے کیلئے جدوجہد کی انہوں نے کہا کہ آج ہم جس شخص کی بات کررہے ہیں انہوں نے ہمیں یکجہتی کادرس دیا انہوں نے کہا کہ ملک میں آزادی صحافت کی فضا سکڑ رہی ہے اور ایسی صورتحال میں بلوچستان کو پی ایف یوجے کی صدارت کا عہدہ ملا ہے اور ہم جدوجہد کررہے ہیں جس میں عام آدمی کے اظہاررائے کی آزادی جس کا حق آئین میں موجودہے کی بات کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک میں اب بھی ایسے صحافی موجود ہیں جو رپورٹر سے اخبارات کے مالک بن گئے مگرانہیں کوئی یاد نہیں کرتا ، رشید بیگ کیخلاف بھی پروپگینڈے کئے گئے مگر کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا اور وہ ناکام ہوگئے ، انہوں نے کہا کہ آج ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ان کے مشن کو جاری رکھنے کیلئے یکجہتی کو قائم رکھیں گے۔صدرپریس کلب عبدالخالق رند نے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کرنے پر مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رشید بیگ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ان کا شمار چند ڈیڈیکیٹیڈ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جوش و جذبے کے ساتھ جدوجہد کی رشید بیگ نے صرف پریس کلب کوئٹہ کی بلڈنگ نہیں بنائی بلکہ اس کو ایک ادارہ بناکر آئین سازی اور اس پرعملدرآمد ، مالی معاملات کی سختی سے چھان بین ، ممبران کیلئے رکنیت سازی کا عمل وضع کرنے سمیت دیگر معاملات کو بہترشکل دی۔
جب بھی کوئٹہ پریس کلب ، صحافت اور صحافیوں کے حقوق کی بات کی جائے گی رشید بیگ کا نام اوپر ہوگا ، انہوں نے جونیئر صحافیوں کو کام کرنے کا طریقہ سکھایا صحافی ہونے کیساتھ ساتھ وہ ایک بہترین استاد بھی تھے جو خودنمائی سے دورہے ، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب کے زیراہتمام پچاس سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر ان کے اعزاز میں پروگرام منعقد کی گئی ، رشید بیگ نے اپنے کردار سے جو تاریخ رقم کی ہے وہ بہت کم لوگوں کو ملتا ہے بلوچستان کے صحافیوں میں ان کانام نمایاں رہے گا۔سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق صدرعلی احمد کرد نے کہا کہ رشید بیگ کی جدوجہد سے کوئٹہ پریس کلب فعال ہے ، انہوں نے کہا کہ خواب دیکھ کر معاشرے ترقی کرتے ہیں رشید بیگ نے خواب دیکھا اور ان کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی اوراس کو پورا کرنے میں سرخرو ہوئے ، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب صرف ایک بلڈنگ نہیں بلکہ مظلوموں کی آواز ہے مگریہ افسوس کی بات ہے کہ ملکی میڈیا میں کوئٹہ اور بلوچستان کے خبروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر لاپتہ افراد ہوں یا بلوچستان کے دیگر مسائل کیلئے کوئٹہ پریس کلب نے لوگوں کو آواز اٹھانے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا ، انہوں نے کہا کہ وکلاء اور صحافیوں نے صوبے کے مظلوم عوام کیلئے آواز اٹھائی یہاں کے لوگوں کو جو بھی مسئلہ درپیش ہو وہ پریس کلب کے باہر شامیانہ لگاتے ہیں اور یہاں سے ان کی آوازمتعلقہ حکام تک پہنچ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں بولنے کی آزادی پر قدغن ہے اور یہاں لکھنے پر بھی پابندی ہے ملک میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں عوامی نمائندگی ہو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی مظلوموں کے حقوق پر کوئی بات نہیں کی جاتی تو ایسے ایوان کا کیا فائدہ ہے صرف چند سیاسی ورکر رہ گئے ہیں جو مسائل اورمظلوموں کی بات کررہے ہوتے ہیں یہ زبان بندی کی صورتحال تشویشناک ہے