|

وقتِ اشاعت :   October 31 – 2021

کوئٹہ : اصولوں پر کاربند رہ کرنظریاتی اور فکری سیاست کو عبادت کادرجہ دینے کی بدولت پارٹی عوام میں مقبولیت اور پذیرآئی کا سبب بن رہاہے ،بی این پی عملی معنوں میں باکردار مخلص جہد مسلسل کرنے والے سیاسی کارکنوں پرمشتمل قومی نمائندہ وطن دوست ،روشن خیال جماعت ہے اور یہاں کے عوام کے حقوق کی حصول کیلئے غیر جمہوری قوتوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوکر ہر سطح پر آواز بلند کرتے چلے آرہے ہیں ،پارٹی کی تنظیم سازی میں یہاں کے عوام کا بلا رنگ ونسل مذہب علاقہ بھرپورشرکت اور دلچسپی اس بات کی نوید ہے کہ مستقبل بی این پی کا ہوگا ،پارٹی کوتنظیمی طور فعال مضبوط اور متحرک بنانے کیلئے کارکنوں کو انتھک اور جدوجہد کسی بھی صورت رائیگاں نہیں جائے گا۔

ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے اراکین وضلعی آرگنائزر غلام نبی مری ،رکن اسمبلی اختر حسین لانگو، ڈپٹی آرگنائزر میر جمال لانگو، ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ملک محی الدین لہڑی ،محمد لقمان کاکڑ، طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ،ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ،مامانصیرمینگل ،اسماعیل کرد، نسیم جاوید ہزارہ ،ستار شکاری ،میر غلام رسول مینگل ،حاجی محمدابراہیم پرکانی ،چیئرمین اقبال بلوچ،ملک ابراہیم شاہوانی ،میر قاسم پرکانی ،میر شاہ جہان لہڑی ،مجیب الرحمن لہڑی ،فیض اللہ بلوچ، وڈیرہ عطاء محمدلانگو، حاجی خالد سخی ،جان محمد مینگل ،رضا جان شاہی زئی ،سردارمحمداکرم کیازئی ،میرعبدالفتح کیازئی ،نعمت ہزارہ ،عزیز بلوچ، شکیل مینگل ،بشیر احمدزہری ،مبارک علی ہزارہ ،نعمت مظہر ہزارہ،ثناء مسرور بلوچ،غلام مصطفی مگسی ،محمدصالح رند،ماما دولت مگسی،سمندرخان مگسی ،ملا مہدی ہزارہ ،ذاکر حسین ہزارہ ،میرعبدالحئی کیازئی ،میر شیر احمد بنگلزئی ،ایاز میٹو ،شاہ خالد مینگل ،بسم اللہ بلوچ، کامریڈ مرتضیٰ بلوچ، ملک شارین لہڑی ،ڈاکٹرعبدالصمد بنگلزئی ،میرعبدالعلی کیازئی ودیگر نے بی این پی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام جاری تنظیم سازی مہم کے سلسلے میں کلی نیک محمدلہڑی برما ہوٹل ،منو جان روڈ ہدہ میں پارٹی کے بانی وسرکردہ رہنماء مرحوم میر عنایت اللہ خان کے نام سے منسوب یونٹ ،جان محمد روڈ کلی کتوب خان مینگل مستونگ روڈ،کلی کیازئی بروری روڈ، سردار آباد کیچی بیگ ،بلوچ کالونی مگسی اسٹاف مشرقی بائی پاس، بلوچ کالونی رند آباد اسٹریٹ مشرقی بائی پاس،بی ایم سی کالونی بروری روڈ اور کلی شابو میں قبائلی رہنماء وڈیرہ عطاء محمد لانگو کے نام سے منسوب یونٹ ،ہزارہ ٹائون قمبرانی روڈمیں بلوچ کاروان ،کلی گوہر آباد میں شہید چیئرمین منظور بلوچ کے نام سے منسوب یونٹ،میر کالونی اور جتک آباد ائیرپورٹ روڈ میں منعقدہ کارنر میٹنگ ،عوامی اجتماعات اور نئے یونٹوں کے قیام کے موقع پر یونٹ باڈیز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ بی این پی نے ہمیشہ صوبے کے اجتماعی ،قومی مفادات پر اصولی اور نظریاتی وفکری اسٹینڈ لیکر گروہی اور ذاتی مفادات کی سیاست کومسترد کیا جس کی واضح ثبوت یہ ہے کہ 2018ء کو پارٹی کو عوام کی طرف سے بھاری مینڈیٹ کے باوجود شراکت اقتدار کی بجائے بلوچستان کے عوام کو درپیش گھمبیر مسائل کو ایوان بالا ،پارلیمنٹ اور دیگر سطح پر ان مسائل کیلئے آواز بلند کی پارٹی کیلئے ایک اچھا موقع تھااگر وہ ماضی کے پارٹیوں کی طرح بلوچستان کے اجتماعی اور دیرینہ مسائل کو اہمیت دینے کی بجائے صرف اور صرف اقتدار کو ترجیح دیتے توآج پارٹی مرکز اور صوبے میں اقتدار پر براجمان ہوتے لیکن پارٹی نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کی سنگین اور حساس مسئلے اور لاپتہ افراد کی بازیابی ،گوادر میں قانون سازی ،بلوچستان میں لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پرآباد افغان مہاجرین کی انخلاء ،وفاق میں بلوچستان کے ملازمتوں کے 6فیصد کوٹے پرعملدرآمد اور بلوچستان کے ساحل وسائل پر صوبے کے واک واختیار ،حق حکمرانی اور بلوچستان میں پانی ،صحت،قومی شاہراہیں اور دیگر مسائل پرمشتمل جن 6نکات کو ترجیح دی آج ملک کے پورے سیاسی حلقے بی این پی کی اس اصولی موقف کو زبردست انداز میں سراہا رہے ہیں کہ ملکی سطح پر یہ وہ واحد جماعت ہے۔

جنہوں نے اپنے انتخابی منشور میں شامل قومی ،اجتماعی ایشوز کو آگے رکھا اور اقتدار کو اہمیت نہیں دی ۔اس موقع پر یونٹوں کے نئے عہدیداروں کیلئے مختلف ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے دوستوں پرمشتمل الیکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی اور انہی کے توسط سے یونٹوں میں نئے عہدیداروں کے الیکشن جمہوری انداز میں کرائے گئے اور نئے منتخب ہونے والے عہدیداروں کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاگیاکہ وہ پارٹی کوتنظیمی طورپر مضبوط ،فعال اور عوام کے اندر رہتے ہوئے تنظیمی فرائض کو پورا کرنے کیلئے کسی قسم کوتاہی وغیر فعالیت سے گریز کریں اور پارٹی کے ہر پیغام اور یونٹ کے علاقائی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی خاطر اپنے یونٹ کے اجلاس اور ممبران کے ساتھ مل بیٹھ کر پارٹی کو آگاہی دیں تاکہ عوامی مسائل کو بروقت حل کرنے اور ارباب اقتدار تک ان کے مسائل کو پہنچایاجاسکے ۔