کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اور ضلعی رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچ پشتون قومی تحریک کیلئے آزادی کی عظیم علمبردار ملک عبدالعلی کاکڑ (مرحوم )نے اپنی پوری زندگی اصولوں ،نظریاتی فکری سیاست پر گامزن رہ کر ہرقسم کی نا انصافیوں جیل ،قید وبند کی صعوبتیں کا جوان مردی کے ساتھ وقت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے قومی حقوق کی جمہوری جدوجہد میں گزاری اور آخری دم تک اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے ان کے عظیم قربانیوں کو وطن دوست سیاسی کارکنوں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہے۔
اور ان کی جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں محکوم قوموں کو اپنے بقاء شناخت وجود سلامتی زبان اپنی سرزمین کے قدرتی وسائل پر اپنے واک واختیار کی جدوجہد کیلئے بی اے پی کے فلیٹ فارم کا ا نتخاب کرنا ہوگا تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بلوچستان میں صدیوں سے آباد قوموں نے متحد ومنظم ہوکر تحریک چلائی تو کوئی بھی نبرآزما قوت شکست نہیں دے سکتا اور جب بھی صوبے کے آباد قوموں نے اپنے اجتماعی بقاء تاریخ تہذیب جدوجہد سے دستبردار اور لاتعلقی اختیار کی تو یہاں کے قوموں کو شدید مشکلات مسائل نا مساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی شناخت وجود کو بمشکل برقرار رکھ سکیں۔
ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ،مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی آرگنائزر غلام نبی مری،مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی ڈپٹی آرگنائزر میر جمال لانگو،ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ملک محی الدین لہڑی،محمد لقمان کاکڑ،ڈاکٹر علی احمد قمبرانی،ماما نصیر مینگل،اسماعیل کرد،نسیم جاوید ہزارہ،ستار شکاری،عین اللہ ،پارٹی کے سابق ضلعی صدر ملک عبدالمجید کاکڑ،رضا جان شاہی زئی،ملک زرک خان کاکڑ،محمد ابراہیم بلوچ،برکت علی،اسد اللہ خروٹی اور دیگر نے بی این پی کوئٹہ کے زیر اہتمام تنظیم سازی مہم کے سلسلے میں کچلاک کے مختلف علاقوں کلی ملک عبدالعلی کاکڑ،کلی ملازئی ،کلی خروٹی،کلی لنڈیان ودیگر علاقوں میں نئے یونٹوں کے قیام کے موقعوں پر منعقدہ عوامی اجتماعات کارنر میٹنگز اور یونٹ باڈیز سے خطاب کرتے ہوئے کیا مقررین نے کہا کہ کالعدم نیپ کے بعد حقیقی معنوں میں ملک میں محکوم مظلوم اور کچلے ہوئے طبقات کومتحد منظم کرنے اور ان کے حقوق کی جدوجہد کرنے کے بعد بی این پی اس پروگرام اور سیاست کو مخلصی وایمانداری سے آگے بڑھا رہے ہیں ہمارے جدوجہد کا مقصد اقتدار کے اصول نہیں بلکہ اقدار کو فروغ دینا ہے ہم ایسے اقتدار اور حق حکمرانی کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں جس میں یہاں کے قوموں کو اپنے مادر وطن دھرتی کے تمام وسائل پر مکمل واک واختیارپر دسترس حاصل ہو ایسے اقتدار ہمارے لئے کوئی معانی نہیں رکھتا ہے۔
جس میں ہم محکوم مظلوم رہ کر اپنے وسائل سے محروم رہ سکیں ڈی ایچ اے ہائوسنگ اسکیم کے سامنے ایف سی چیک پوسٹوں کے سامنے آئے روز شریف بلوچوں اور پشتون شہریوں کے عزت نفس کو مجروح کرنا روز کامعمول بن گیا ہے یہ عدالت کی واضح خلاف ورزی ہے بلوچستان ہائیکورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ بلوچستان سے ایف سی کے چیک پوسٹوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور شہریوں کو تنگ کرنے سے گریز کیا جائے لیکن اس کے باوجود اس عدالتی فیصلے کو پائوں تلے روندا جارہا ہے یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بلوچستان کی تمام معاملات اور اختیارات ان با اختیار قوتوں کے پاس ہے جو گزشتہ 70سالوں سے انہوں نے اہل بلوچستان کومظلوم محکوم پسماندہ جہالت ،غربت اندھیرے میں رکھ کر دو وقت کے نان شبینہ کا محتاج بنا رکھا ہے ان کے پالیسیوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ یہاں کے لوگوں کو تیسرے درجے کی حیثیت سمجھتے ہیں ۔
انہوں نے کوئٹہ شہر میں آباد تمام اقوام اور استحصال کے شکار افراد سے کہا ہے کہ ایک ا چھا موقع ہے کہ وہ بی این پی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں پارٹی کی تنظیم سازی کے موقع میں حصہ لیکر ایک گلدستہ بنا کر جدوجہد کو آگے بڑھائیں اس موقع پر نئے یونٹوں کے عہدیداروں کے چنائو کیلئے سیاسی اورجمہوری انداز میں الیکشن کمیٹیوں نے الیکشن کروائیں جس کے نتیجے میں کلی ملک عبدالعلی کاکڑ (مرحوم)یونٹ سے ملک زرک خان کاکڑ یوٹ سیکرٹری،حکمت اللہ ڈپٹی یونٹ سیکرٹری،ملک عبدالمجید کاکڑ ضلعی کونسلر منتخب ہوئے جبکہ کلی لنڈی یونٹ کیلئے محمد ابراہیم یونٹ سیکرٹری ،منظور احمد ڈپٹی یونٹ سیکرٹری اور عین اللہ ضلعی کونسلر منتخب ہوئے جبکہ کلی خروٹی یونٹ کیلئے اسد اللہ یونٹ سیکرٹری،نثار احمد ڈپٹی یونٹ سیکرٹری اور محمد رحیم ضلعی کونسلر منتخب ہوئے اور اسی طرح کلی ملازئی یونٹ کیلئے برکت علی یونٹ سیکرٹری،محمد اشفاق ڈپٹی یونٹ سیکرٹری اور عبدالغفار ضلعی کونسل منتخب ہوئے اس موقع پر پارٹی کے رہنمائوں نے نو منتخب عہدیداروں کومبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کااظہار کیا کہ وہ پارٹی کو فعال مضبوط منظم بنانے کیلئے اپنے تمام ترصلاحیتوں کوبروئے کا لائیں گے۔