|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے سوشل میڈیا پر مخصوص ٹولے کی جانب سے نومبر کو بی ایس او کے کونسل سیشن کی خبروں کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ تنظیم کا قومی کونسل سیشن رواں سال مارچ کو شال میں منعقد ہوا تھا جہاں نئی کابینہ و سینٹرل کمیٹی کا چناؤ عمل میں لایا گیا تھا لیکن ایک مخصوص ٹولہ کی جانب سے نومبر کو کونسل سیشن کا اعلان کرکے طالب علموں و بلوچ قوم میں کنفیوڑن پھیلائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ چند لوگ اپنے گروہی مفادات کی تحفظ کیلئے بی ایس او کا نام استعمال کرکے طلباء سیاست میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہم نے بارہا اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اپنی گروہوں مفادات کی خاطر تنظیم کا نام استعمال کرکے بلوچ نوجوانوں میں افہام و تفہیم نہ پھیلائیں لیکن انھوں نے تمام تر سیاسی اخلاقیات و روایات کو پاؤں تلے روند کر ہمیشہ بی ایس او کا نام استعمال کرکے گروہی مفادات کے تکمیل کی کوشش کی ہے۔ کونسل سیشن کے نام پر اساتذہ ،سرکاری افسران، کاروباری حضرات و مختلف طبقہ فکر کے لوگوں سے چندہ کیا جارہا ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا بی ایس او سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی تنظیم کا کونسل سیشن ہونے والا ہے بلکہ ایک مخصوص ٹولہ اپنی انا کی تسکین کیلئے بی ایس او کینام کا غلط استعمال کرکے بلوچ طلباء سیاست کو منتشر کرنا چاہتا ہے۔

ترجمان نے بلوچ طلباء تنظیموں، طالبعلموں ،اساتذہ کرام، سیاسی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کردار ادا کریں۔ بی ایس او روزِ اول سے ایک واضح قومی پیغام اور موقف لیکر قومی جہد میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اور اس طرح کے گروہ اپنے بے بنیاد نعروں اور غیر سیاسی رویوں سے طلباء سیاست کو کمزور کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ بلوچ طلباء سیاست اس وقت مختلف مشکلات سے دوچار ہے اور گروہی مفادات کیلئے طلباء کو مزید منتشر کرکے انھیں قومی سیاست سے بد دل کرنا کسی صورت قومی سیاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ طلباء تنظیموں کی قیادت اور کارکنان کے خلاف مختلف حربوں کے ذریعے گھیرا تنگ کرکے انھیں سیاسی جدوجہد سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مشکل وقت میں طلباء سیاست مزید انتشاراور تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہم تمام نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس وہ قومی جہد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کا شناخت کرکے طلباء و سیاست کو تقسیم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرکے قومی سیاست کو توانا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔