کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیراہتمام پارٹی کے بانی رہنماء کراچی ڈویژن کے سابق ضلعی صدر شہید زاہد حسین بلوچ کی 11ویں برسی کی مناسبت سے بی این پی کوئٹہ کی جانب سے کلی شابو یونٹ میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کی صدارت شہید رہنماء کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص انسانی حقوق کے سیکرٹری موسیٰ بلوچ ،اعزازی مہمان پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی آرگنائزر غلام نبی مری تھے ،شہید زاہد حسین بلوچ کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک منٹ کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی گئی ۔
تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موسیٰ بلوچ، غلام نبی مری ،ڈپٹی آرگنائزر میر جمال لانگو،ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ملک محی الدین لہڑی ،ڈاکٹر علی احمدقمبرانی ،ماما نصیرمینگل ،ضلعی کونسلران کامریڈ عبدالحمید لانگو، بیگ محمد حسنی ،محمدآصف بلوچ، کامریڈ ملک نذیرا حمددہوار ،کامریڈ غلام مرتضیٰ مینگل نے شہید رہنماء کی جدوجہد ،قربانیوں پر روشنی ڈالی ،مقررین نے کہاکہ شہید زاہد حسین بلوچ نے کراچی میں بلوچوں کو متحد ومنظم کرنے کی خاطر عظیم قربانیوںاور جدوجہد کو کسی صورت فراموش نہیں کیاجاسکتا ،شہید رہنماء نے کراچی جو بلوچوں کا قدیم ترین مائی کولاچی دھرتی میں آباد بلوچوں کو متحد ومنظم کرنے اور وہاں کے عوام کی سیاسی ،سماجی ،معاشی ،معاشرتی مسائل کو بروقت اجاگر کرنے اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے جو سیاسی ،سماجی خدمات سرانجام دئیے ہیں کراچی کے عوام انہیں کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرینگے ۔
بی این پی کو کراچی میں فعال کرنے میں شہید رہنماء کی جدوجہد اور قربانیاں پارٹی کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھے جائینگے ،ان کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہادت بنیادی طورپر کراچی میں بلوچوں کو کمزور کرنا اور قوم وطن دوستی کی سیاست کو ضعیف کرانا تھا کیونکہ شہید رہنماء نے مختصر عرصے میں کراچی کے قدیم ترین بلوچ علاقوں میں جس انداز میں شعوری وفکری حوالے سے تنظیمی طورپر پارٹی اور بلوچوں کو منظم کرنے کاجال بچھارہے تھے اور عوام میں مقبولیت وپذیرآئی کا جگہ بنا رہے تھے ناعاقبت اندیش اور نادہندہ قوتوں کو شہید رہنماء کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،سیاسی حکمت عملی ،تنظیمی فعالیت ،بلوچوں کو متحد کرنے کے علمی ایمانداری ومخلصی کردار سے خائف تھے اور انہوں نے زاہد حسین بلوچ کو ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنا کر راستے سے ہٹاکر انہیں شہید کیا تاکہ وہاں کے بلوچ مزید پسماندگی ،جہالت غربت سیاسی سماجی شعور سے محروم رہ کر اپنے حقوق کی جدوجہد سے دو رہیں ۔
مقررین نے کہاکہ بی این پی شہداء کی جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں قائد تحریک سرداراخترجان مینگل کی مدبرانہ اور غیر متزلزل قیادت میں پورے بلوچستان اور ملک میں آباد بلوچوں اور محکوم قوموں کو آباد ومنظم کرنے کیلئے جمہوری قومی حقوق کی جدوجہد کی طرف راغب کرنے کیلئے مہم مصروف عمل ہیں یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف کے آمرانہ دور سے لیکر آج بھی بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل شہید گل زمین حبیب جالب بلوچ ،میر نورالدین خان مینگل ،نواب امان اللہ خان زہری سمیت درجنوں سرکردہ فعال ومتحرک کارکنوں اور رہنمائوں کو ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایا تاکہ بلوچستان کے عوام کو قومی حقوق کے جمہوری اور موثر آواز کو خوف وہراس ،ظلم وستم قتل وغارت گیری ،اغواء نما گرفتاریوں ،ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے مرعوب کرکے انہیں قومیت کی موثر آواز کو خاموش کرائیں ۔مقررین نے کہاکہ شہداء کے مشن ،ارمانوں ،احساسات اور جذبات اور مشن کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جدوجہدبی این پی کی اولین ترجیح ہے اور شہداء کی مشن اور قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیںگے ۔بی این پی شہداء ،غازیوں ،سیاسی کارکنوں کی سب سے بڑی جماعت ہے جنہوں نے ہمیشہ بلوچ قوم بلوچستان کی حفاظت اور بقاء وسلامتی ،واک واختیار اور وسائل پر دسترس کے ساتھ ساتھ آنے والے چیلنجز کامقابلہ کرنے کیلئے متحرک کرداراداکیاہے ۔