|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2021

کوئٹہ : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے اپنے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ 06 نومبر بروز ہفتہ کو وائی ڈی اے سول ہسپتال کے صوبائی آفس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور وائی ڈی اے سپریم کونسل کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت ڈاکٹر احمد عباس منعقد ہوا، اجلاس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مالک کاکڑ ، صوبائی نائب صدر ڈاکٹر طاہر موسی خیل ، سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی ، وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ سمیت دیگر عہدیداران، کابینہ میمبران، اور وائی ڈی اے سپریم کونسل کے ممبران نے شرکت کی، اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں شہید ڈاکٹر امیرالدین مری کیلئے فاتحہ خوانی پڑی گئی اور تمام شرکاء نے ڈاکٹر امیرالدین مری کے بیایمانہ قتل کی پرزور مزمت کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے بتایا کے حکومت ڈاکٹرو کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، اول تو ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹرو پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے تھے مگر اب کو دن دہاڑے ڈاکٹرو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا جاتا ہے، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین وائی ڈی اے سپریم کونسل ڈاکٹر بہار شاہ نے حکومت اے وقت سے شہید ڈاکٹر کے قاتلوں کی فلفور گرفتاری کا مطالبہ کیا،شرکاء سے بات کرتے ہوئے وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر طاہر موسی خیل نے بتایا کہ ڈاکٹرو پر تشدد، ڈاکٹرو کی اغواء کاریوں کے بعد اب ڈاکٹرو کو قتل کیا جارہا ہے جو کہ تشویشناک ہے، شہید ڈاکٹر کے خون کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں اس لئے حساب بھی حکومت سے ہی مانگتے ہیں،اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سیکورٹی کا کوئی نظام موجود نہیں، حکومت ڈاکٹرو کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

شہید ڈاکٹر کا نہ کسی سے جھگڑا تھا اور نہ ہی کوئی رنجش، صوبے میں جنگل کا قانون ہے، ڈاکٹرو کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہید ڈاکٹر کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے،اجلاس سے خطاب میں جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مالک کاکڑ نے بتایا کے صوبہ کے واحد ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے افرادی قوت کی کمی، ادوایات کی قلت اور اوزار کی کمی ہے، سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہید ڈاکٹر کو بروقت علاج کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی، گزشتہ 36 دنوں سے یہی رونارو رہے ہیں کہ سرکاری ہسپتال تباہ حالی کا شکار ہے مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، ایسے حالات میں جہاں سہولیات کا مکمل فقدان ہو اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی جان کو خطرہ ہو، ڈاکٹر کام کرے بھی تو کیسے؟اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے شرکاء کو بتایا کہ نااہل سیکریٹریز صحت نے سرکاری ہسپتالوں کو مسائل کا گھڑ بنادیا ہے۔

سرکاری ہسپتال کھنڈرات بن چکے ہیں جہاں مریضوں کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، نااہل سیکریٹریز کی کوتاہی کی وجہ سے ٹراما سینٹر سہولیات سے محروم رہا،صدر نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کو تالا نہیں لگایا بلکہ احتجاجاً او پی ڈی بلڈنگ کا بائیکاٹ کیا ہے جس کا جمہوری حق رکھتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کا احتجاجاً او پی ڈی بلڈنگ کا بائیکاٹ اور وارڈز میں سروسز کی مکمل فراہمی جاری رہے گی،صدر نے شرکاء کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں کی تباہی کا منظر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، سوموار کو چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے سرکاری ہسپتالوں کی بد حالی کی منظر کشی کرینگے اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی استدعا کرینگے، صدر نے حکومت سے معاملات کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ ڈاکٹر امیرالدین مری شہید کے بے ایمانہ قتل اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے 08 نومبر بروز سوموار کو دن 12 بجے سول ہسپتال سے صوبائی اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی،آخر میں ترجمان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرو، پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے دوست ،عوام اور سول سوسائٹی، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔