شیرانی: پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع شیرانی کے زیر اہتمام سلیزہ میں پارٹی کے عظیم رہنماء سائیں کمال خان شیرانی کی گیارہویں برسی کے موقع پرتعزیتی اجتماع ضلع سیکرٹری غلام الدین شیرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ برسی کے اجتماع سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا ، مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، غلام الدین شیرانی، عزیز خان مندوخیل ، جلات خان حریفال ، ڈاکٹر یونس شیرانی ، دائود خان ایڈووکیٹ، واحد شیرانی نے خطاب کیا۔
جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمود شیرانی اور تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی نجیب اللہ نے حاصل کی ۔ مقررین نے سائیں کمال خان شیرانی کی قومی ، سیاسی ، جمہوری اور ادبی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سائیں کمال خان نے اپنے اعلیٰ تعلیم اور سرکاری منصب کو خیر باد کہہ کر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی قیادت میں پشتون قومی تحریک کی آبیاری کی اور زندگی کی آخری ایام تک انتہائی صبر وتحمل اور برداشت کے ساتھ پشتون قومی سیاسی جمہوری تحریک سے وابسطہ رہے۔
سائیں کمال خان پشتون ملی وحدت ، پشتون ملی تشخص اور پشتون قومی وسائل پر پشتون قومی اختیار اور ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن بنانے کیلئے پارٹی کی سیاست اور پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے شب وروز محنت اور لگن سے رہنمائی کرتے رہے۔ انہوں نے انتھائی کٹھن اور گھمبیر حالات میں خان شہید کی قیادت میں پشتون قومی تحریک کو وسیع کرنے اور منظم کرنے میں تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ہر سطح پر رہنماء رول ادا کیا ۔ مقررین نے کہا کہ ایسے عظیم اکابرین کی یاد منانا درحقیقت رواں قومی تحریک کو مزید تقویت دینا ہے کیونکہ ان کے افکار جدوجہد قربانیاں اور عزم تمام پارٹی اور قوم کیلئے مشعل راہ ہے ۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوامیپ نے روز اول سے اصولی سیاست کرتے ہوئے اپنے نظریات کے مطابق پشتونخوا وطن اور ملک کی جمہوری سیاست اور پشتون غیور ملت کی قومی حقوق واختیارات کے حصول کیلئے ہمیشہ رہنماء اور فعال رول ادا کیا ہے ۔ خان شہید سے لیکر ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت تک پارٹی رہنمائوں کارکنوں نے آمر قوتوں اور ان کے کاسہ لیسوں کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے لازوال قربانیاں دیں ہیں۔
اور اب بھی ہمارے کارکن اپنے سیاسی نظریات پر کاربند ہوکر قومی اہداف کی تکمیل اور پشتون ملت کے ملی ارمانوں کو پورا کرنے کیلئے تاریخ ساز جدوجہد کررہی ہیں۔پارٹی عہدیداروں اور کارکنوںنے اپنی پارٹی کے صفوںکو مزید منظم اور فعال کرتے ہوئے اس تاریخی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ اور منظم اور قربانیوں سے لبریز جدوجہد ہی ہمیں منزل مقصود تک پہنچاسکتی ہے۔ مقررین نے کہاکہ افغانستان ایک آزاد اور خودمختیار ملک ہے ان کی استقلال ، ارضی تمامیت اور خودمختاری کو تمام ہمسایہ ممالک نے عملاً تسلیم کرکے وہاں پر ہر قسم کی مداخلت بند کرنی ہوگی او رسیکورٹی کونسل کے ارکان ممالک نے افغانستان کے استقلال کی ضمانت دینی ہوگی اور افغانستان کے استقلال کی ضمانت ہونے کے بعد اس خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے اور طالبان نے بھی عوام کی مرضی ومنشاء کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری بنیادوں پر قائم حکومت کی راہ اپنانی ہوگی۔ جس میں افغان ملت کے تمام نمائندہ طبقات کی نمائندگی شامل ہو۔
اور افغانستان کی مستقل ترقی وخوشحالی اور امن کے قیام کیلئے جمہوری اصولوں پر مبنی راہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ ملک معاشی طورپر زبوں حالی کا شکار ہے اور ہر شعبہ زندگی میں ترقی کا نام ونشان تک نہیں بلکہ معاشی طورپر ملک بدترین بدحالی کا سامنا کررہا ہے اور بدترین مہنگائی اور بیروزگاری نے تمام عوام کی مکمل اکثریت کو اپنے شکنجے میں جھکڑ رکھا ہے اور نام نہاد سلیکٹڈ حکومت ہر شعبہ زندگی میں ناکامی کی طرح مہنگائی بھی کنٹرول نہیں کرسکتے اور ان کے تمام دعوے غلط ثابت ہوچکے ہیں اور ملک کی ناکام داخلہ وخارجہ پالیسی کے باعث ملک عالمی سطح پر مکمل طور پر یک وتنہا ہے اور ناکام اور عوام دشمن داخلہ پالیسی کے باعث ہر طرف انارکی ہے اور حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے اور ملک کے کروڑوں عوام کو بدترین مسائل مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سلیکٹڈ اور مسلط وزیر اعظم ان کے سلیکٹڈ وزراء اور حکومتیں مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہیں۔ ان سنگین حالات میں نجات کی واحد راہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی پروگرام کی روشنی میں ان نام نہاد اور سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف جدوجہد ہر سطح پر وسیع اور تیز کیا جائے اور موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں سے عوام کو نجات دلاکر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک شفاف آزادانہ غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بناکر اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے جو حقیقی جمہوریت کے قیام کی راہ پر چل کر ہی ملک کو ہر قسم کے بحرانوںسے نجات دلاسکتی ہو۔