کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ،نائب صدر میر خورشید رند ،سینئر رہنما نظام رند نے اپنے بیان میں کہا ہیکہ ساحل بلوچستان میں غیر قانونی ٹرالنگ کی وجہ سے ہزاروں ماہیگیروں کا روزگار متاثر ہورہا ہے،ماہیگیری جو ساحل بلوچستان کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پورے بلوچستان کو ٹرالرز مافیا کے حوالے کردیا گیا ہے۔
جہاں روزانہ سینکڑوں لانچیں بلوچستان کی سمندر کو تاراج کرکے مچھلیوں کی نسل کشی کے ساتھ ماہیگیروں کا روزگار بھی متاثر ہورہا ہے ،انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ماہیگیری سے مجموعی طورپر لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش تباہ ہورہاہے غیرقانونی ماہیگری اور ٹرالنگ کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو آئندہ چند برس میں بلوچستان کی ساحل بانجھ ہوکر لاکھوں ماہیگیروں کی بیروزگاری کا سبب بنے گا،انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ٹرالنگ سے ایک تخمینہ کے مطابق ماہانہ ایک ارب روپے کی غیرقانونی مچھلی شکار کی جاتی ہے،غیر قانونی ٹرالنگ دنیا بھر میں ممنوعہ ہے۔
لیکن ہمارے ہاں ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکاہے،رحمت صالح نے کہاکہ محکمہ فشریز اور دیگر ادارے بھتہ لیکر اس گھنانی کاروبار اور ٹرالنگ میں ملوث ہیں،انہوں نے کہا کہ غیرقانونی فشنگ کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کئیے جائیں،گڈانی سے لیکر جیونی کے ساحل تک آرٹیفیشل کورل ریف کا منصوبہ شروع کیا جائے جس سے ٹرالنگ کی روک تھام ممکن ہو سکے گا اور مچھلیوں کی افزائش نسل میں اضافہ ہوگا۔